1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ايک نئے عالمی مالياتی بحران کا خطرہ؟

عالمی اقتصاديت کے بہت شديد بحران پر قابو پا ليا گيا ہے۔ بينک اپنے اعلی افسران کو پھرسے خطير رقوم بطور بونس ادا کررہے ہيں۔ تو کيا سب کچھ دوبارہ صحيح ہوگيا ہے؟ يا يہ کہ عالمی مالی منڈيوں ميں خطرہ بدستور منڈلا رہا ہے۔

The International Monetary Fund headquarters is seen in Washington, Sunday, May 2, 2010. A senior International Monetary Fund official says the IMF's executive board is meeting in Washington to consider how much aid to grant Athens under a massive rescue loan package. (AP Photo/Cliff Owen)

IMF کا لوگو

يہ خدشہ ہے کہ عالمی اقتصادی بحران کے بعد کی اصلاحات سے کچھ بھی تبديل نہيں ہوا ہے۔ IMF نے عالمی مالياتی نظام کی تازہ ترين صورتحال کے بارے ميں واشنگٹن ميں ايک رپورٹ پيش کی ہے۔

بين الاقوامی مالياتی فنڈ IMF کے سرمائے کی منڈی کے شعبے کے ڈائريکٹر جوزے ونيالس نے ابتدا اچھی خبر سے کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالی نظام کے استحکام کو درپيش خطرات کم ہو گئے ہيں۔ اس کی ايک بڑی وجہ تو عالمی اقتصادی بحالی ہے ليکن دوسری وجہ يہ بھی ہے کہ حکومتيں بينکوں کو ابھی تک کافی سرمايہ مہيا کررہی ہيں:

’’ بری خبر يہ ہے کہ مالی بحران کے دوران تو معيشت ميں دوبارہ سرگرمی پيدا کرنے کے ليے تو رياستی مالی مدد صحيح تھی ليکن اب يہی مدد اس ليے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے کيونکہ اس سے مالياتی نظام کے وہ بحران کھل کر سامنے نہيں آ پا رہے ہيں جن پر قابو پانے کے ليے تيزی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘

ونيالس کی مراد اس رياستی مدد سے ہے جو عوام کی ٹيکس کی رقوم سے بينکوں کو دی گئی اور دی جارہی ہے۔

The International Monetary and Financial Committee gathers for their semi-annual meeting at the IMF's Headquarters in Washington, DC., USA, 24 April 2010. Finance Ministers and Bank Governors around the world will be attending the IMF/World Bank Spring Meetings this weekend in Washington, DC. EPA/STEPHEN JAFFE / IMF / HANDOUT EDITORIAL USE ONLY

IMF کا اجلاس

نئے مالی بحران کی ايک وجہ يہ بھی ہو سکتی ہے کہ مشکلات کے شکار بينک ايسی صورتحال سے دوچار ہوجائيں کہ وہ سرمايے کی کھلی منڈی ميں کوئی رقوم قرض پر حاصل نہ کرسکيں جو وہ بعد ميں زيادہ شرح سود پر اپنے گاہکوں کو ديتے ہيں۔

جوزے ونيالس، عالمی مالی استحکام کے ليے ايک اور بڑا خطرہ يہ سمجھتے ہيں کہ بہت سے صنعتی ممالک پر واجب لادا قرضوں ميں بہت زيادہ اضافہ ہو گيا ہے۔ يہاں اُن کی مراد صرف يورپی يونين کے چھوٹے ملک ہی سے نہيں بلکہ خاص طور پر امريکہ اور جاپان سے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امريکہ ميں صورتحال خصوصاً دشوار ہے کيونکہ وہاں بہت سے گھرانے بہت ہی زيادہ مقروض ہوچکے ہيں۔ اس سے بينکوں کے کاروباری توازن پر برا اثر پڑ سکتا ہے، حتیٰ کہ اس سےعالمی اقتصادی بحالی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

Brokers are seen at the stock market in Frankfurt, central Germany, Monday, Oct. 6, 2008. European stock markets plunged Monday as government bank bailouts in the U.S. and Europe failed to alleviate fears that the global financial crisis would depress world economic growth. (AP Photo/Michael Probst)

عالمی مالياتی بحران کے دوران فرينکفرٹ اسٹاک ايکسچينج

IMF کی اس رپورٹ ميں ابھرتے ہوئے صنعتی ملکوں ميں اقتصادی سرگرميوں ميں بہت زيادہ حدت پيدا ہونے پر بھی فکر ظاہر کی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی قرضوں کی طلب بھی بہت بڑھ گئی ہے اور تجربہ يہ ظاہر کرتا ہے کہ آج کے سود پر ليے گئے قرضے کل کے مالياتی اور قرضوں کے بحران پيدا کرسکتے ہيں۔ حقيقت يہ ہے کہ چين،بھارت،ارجنٹائن،برازيل اور انڈونيشيا ميں قرضوں کی سرمايہ کاری کی اس قدر ريل پيل ہے کہ ايک خطرناک صورتحال پيدا ہو سکتی ہے۔

اس ليے بين الاقوامی مالياتی فنڈ نےايک زمانے کے، خالصتاً آزاد منڈی، کے نظريے تک سے ہٹتے ہوئے اب ابھرتے ہوئے ضنعتی ممالک کويہ مشورہ ديا ہے کہ وہ سرمايے کی منتقلی کی نگرانی کريں۔

رپورٹ: رولف وينکل ، واشنگٹن/ شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM