1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ايڈز کا عالمی دن: مرض کی تشخيص آج بھی سب سے بڑا مسئلہ

ايڈز کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت نے خبردار کيا ہے کہ ’ايچ آئی وی‘ سے متاثرہ افراد کی قريب نصف تعداد اس بات سے واقف ہی نہيں ہوتی کہ وہ وائرس کا شکار ہيں۔

آج بروز منگل يکم دسمبر کو ورلڈ ايڈز ڈے منايا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ ميں صحت سے متعلق امور کے نگران ادارے ورلڈ ہيلتھ آرگنائزيشن نے اس موقع پر تنبيہ کی ہے کہ گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق ايڈز کا سبب بننے والے وائرس يعنی ايچ آئی وی سے متاثرہ چاليس فيصد يا لگ بھگ چودہ ملين افراد کو اس بات کا علم ہی نہيں ہے کہ وہ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہيں۔ ادارے نے اس سلسلے ميں ايڈز کی تشخيص کے عمل کو مزید آسان بنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔

گو کہ يہ اعداد و شمار کچھ زيادہ خاص نہيں ليکن اگر ان کا موازنہ ايک دہائی قبل سے کيا جائے، تو اس وقت ايچ آئی وی کے شکار صرف بارہ فيصد افراد کو اپنی مریضانہ کيفيت کا علم تھا۔ بيماری کی تشخيص آج بھی ايڈز کی روک تھام کے معاملے ميں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی داراہ صحت کی تجاويز کے مطابق ايچ آئی وی سے متاثرہ تمام افراد کو اينٹی ريٹرو وائرل تھراپی (ART) فراہم کی جانا چاہيے۔ اس تھراپی ميں وائرس سے متاثرہ شخص کو چند مخصوص ادويات دی جاتی ہيں، جن سے وائرس کا علاج تو ممکن نہيں تاہم يہ وائرس کو کنٹرول ضرور کر ليتی ہيں جس سے وائرس کے مزيد پھيلنے وغيرہ کو کچھ حد تک قابو کيا جا سکتا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر ايچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی اسی فيصد تعداد کو يہ تھراپی فراہم کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر دنيا بھر ميں 36.7 ملين افراد ايچ آئی وی کا شکار ہيں۔

ورلڈ ہيلتھ آرگنائزيشن کے ايچ آئی وی سے متعلق محکمے کے سربراہ گوٹفريڈ ہرنشال کا کہنا ہے، ’’متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد اور جنہيں تھراپی فراہم کی جا رہی ہے، ان ميں اب بھی واضح فرق برقرار ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس کی وجہ سے وائرس سے متاثرہ افراد کو تھراپی کی فراہمی تاخير سے ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگريٹ چن کے بقول لوگوں کو ان کے گھروں پر ہی وائرس کے تشخيص کے ليے ٹيسٹ کے آلات و طريقہ کار کی فراہمی اس مسئلے پر قابو پانے کے ليے  کليدی اہميت کی حامل ثابت ہو سکتی ہے۔

ايڈز کے عالمی دن کے موقع پر عالمی ادارہ صحت اور يورپی يونين کی جانب سے بتايا گيا ہے کہ يورپی سطح پر ايچ آئی وی ميں مبتلا ہر سات ميں سے ايک فرد خود کے وائرس کا شکار ہونے کے بارے ميں نا واقف ہے۔ سن 2015 بھی ايچ آئی وی کے نئے کيسز کے حوالے سے ايک نيا ريکارڈ قائم ہوا۔ گزشتہ برس يورپ ميں کُل 153,407 کيسز سامنے آئے جبکہ سن 2014 ميں يہ تعداد 142,000 تھی۔

وائرس کے بارے ميں شعور و معلومات پھيلانے کے ليے ايڈز کا عالمی سن 1988 سے ہر سال يکم دسمبر کے روز منايا جاتا ہے۔