1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ايسی سی او ميں پاکستان اور بھارت کی رکنيت، حاصل کيا ہو گا؟

شنگھائی تعاون تنظیم کی آج سے شروع ہونے والی دو روزہ میٹنگ میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکن ملک کا درجہ ملنا تقریباً طے ہے تاہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ اجلاس ميں شریک دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان ملاقات ہو گی يا نہيں؟

اس بارے ميں قیاس آرائياں سامنے آ رہی ہيں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کانفرنس میں شامل ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے درميان ملاقات ہو گی يا نہیں۔ اس بارے ميں جب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’’وزیر خارجہ سشما سوراج واضح کر چکی ہیں کہ نہ تو ان کی طرف سے اور نہ ہی کسی اور جانب سے اس سلسلے ميں کوئی درخواست موصول ہوئی ہے۔ اور نہ ہی بھارتی حکومت ايسی کسی ممکنہ پيش رفت پر غور کر رہی ہے۔ نئی دہلی کا نظریہ پہلے کی طرح واضح ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘‘ مودی اور شريف کے مابين رسمی ملاقات نہ سہی، قزاقستان کے صدر نور سلطان نذر بائیف کی طرف سے دی جانے والی ضیافت میں دونوں رہنما یقیناً شريک ہوں گے۔

DW.COM

چھ ملکی علاقائی تنظیم ایس سی او کے وسطی ايشيائی ملک قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں جاری اجلاس میں بھارت کو مکمل رکن کا درجہ ملنا تقريباً یقینی ہی ہے۔ نئی دہلی کو اس کے ليے دس سال سے زیادہ عرصے تک انتظار کرنا پڑا۔ تاخیر کی بڑی وجہ ابتداء میں چین کی طرف سے بھارت کی مکمل رکنیت کی مخالفت رہی۔ بیجنگ حکومت يہ یقینی بنانا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھی ملک پاکستان کو بھی بھارت کے ساتھ اس تنظيم کے مکمل رکن ملک کا درجہ ملے۔ 1996ء میں قائم شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کے علاوہ روس، قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ بھارت کو 2005ء سے ’مبصر‘ کا درجہ حاصل ہے۔ سن 2014 ميں نئی دہلی نے اس تنظيم کی مکمل رکنیت کی درخواست دی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آستانہ روانگی سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مکمل رکن کے طور پر بھارت کی شموليت سے ایس سی او ايک ايسی تنظيم بن جائے گی، جو دنیا کی مجموعی آبادی کے چالیس فیصد کی نمائندہ ہو۔ يوں بھارت کو رکن ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات بڑھانے اور انسداد دہشت گردی کے ليے دیگر کئی علاقوں میں تعاون کے مواقع بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ ‘‘ مودی کا کہنا تھا، ’’ایس سی او کے رکن ملکوں کے ساتھ بھارت کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ایسے میں اس میں شامل ہونا بھارت کے ليے ہر لحاظ سے سود مند ثابت ہوگا۔ سب مل کر اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ مشترکہ مفادات کی حفاظت اور چیلنجز سے نمٹنے کے ليے تعاون میں اضافہ کرسکیں گے۔‘‘


یہ پہلا موقع ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو جوہری طاقت کے حامل حریف ممالک بھارت اور پاکستان ایک ایسے گروپ کا حصہ ہوں گے جو رکن ملکوں کے مابین سکيورٹی اور فوجی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ایسے وقت میں ایس سی او کے مکمل رکن بن رہے ہیں، جب ان کے باہمی تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کی ايک بریفنگ کے دوران جب ترجمان گوپال باگلے سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت اب پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی اور انسداد دہشت گردی مشقوں میں حصہ لے گا، تو ان کا کہنا تھا، ’’ہم پاکستان سمیت بہت سے ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی قیام امن سے متعلق کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ انسانیت کے حق میں ہے۔‘‘


ایس سی او میں بھارت کی رکنیت کے حوالے سے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسس میں سینئر فیلو ڈاکٹر پی اسٹوب دان کا کہنا ہے، ’’بھارت کے ليے يہ معاملہ زیادہ واضح نہیں ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہيے کہ چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ نظریے کے پیچھے اصل کردار ایس سی او کا ہی ہے ۔ علاوہ ازيں کالعدم تنظيم جيش محمد کے بانی اور سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کيے جانے اور ان پر پابندی عائد کرنے سے روکنے کے معاملے پر چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ متفقہ طور پر فیصلہ لینے سے بھارت کے ليے این ایس جی کی رکنیت مزید مشکل بن سکتی ہے۔‘‘


ایس سی او کا رکن بننے کے بعد بھارت کو ملنے والے ممکنہ فوائد کے حوالے سے ڈاکٹر پی اسٹوب دان کا کہنا ہے، ’’بھارت کو ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ تنظيم ان کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں، منشیات کے اسمگلروں اور سائبر سیکورٹی کو لاحق خطرات کے ليے کام کرتی ہے، جن کے بارے میں بھارت کو ابھی تک بہت زیادہ علم نہیں ہے۔اسی طرح ایس سی او کی انسداد دہشت گردی و فوجی مشقوں میں شرکت بھی بھارتی مسلح افواج کے ليے سود مند ثابت ہوگی۔ توانائی کے شعبے ميں سیکورٹی کے حوالے سے بھی یہ بھارت کے ليے فائدہ مند رہے گا لیکن اس کا خاطر خواہ فائدہ اسی وقت ہوگا جب ایران بھی اس گرو پ میں شامل ہو۔‘‘

DW.COM