1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ايران پر حملہ خطرناک ہوگا: موساد کے سابق سربراہ

اسرائيل کے خفيہ ادارے موساد کے سابق سربراہ داگان ايران کی ايٹمی تنصيبات پر اسرائيلی فوجی حملے سے مسلسل خبردار کر رہے ہيں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔

جنوری سن 2011 ميں ريٹائر ہونے والے موساد کے ڈائرکٹر مير داگان

جنوری سن 2011 ميں ريٹائر ہونے والے موساد کے ڈائرکٹر مير داگان

اسرائيل کی غير ممالک ميں جاسوسی کرنے والی خفيہ ايجنسی موساد کے سابق سربراہ مير داگان ايران کی ايٹمی تنصيبات پر اسرائيلی حملے کی مخالفت کر رہے ہيں۔ اس طرح وہ کھلے عام وزير اعظم نيتن ياہو اور وزير دفاع ايہود بارک کے مؤقف سے دور ہٹ رہے ہيں۔ ان دونوں اسرائيلی رہنماؤں نے قریب چار ہفتے قبل اس قسم کے حملے کی طرف اشارہ کيا تھا۔ انہوں نے ايران کے ايٹمی پروگرام کے خلاف اسرائيل کے فوجی حملے کو ايک حقيقی طريق کار قرار ديا تھا۔ اس منصوبے کی مخالفت صرف مير داگان ہی نہيں بلکہ ملک کی سلامتی کے دوسرے اداروں کے سابق سربراہوں نے بھی کی ہے۔ داخلی جاسوس ادارے شن بيت کے سابق سربراہ جوُوال ديسکن اور سابق چيف آف جنرل اسٹاف گابی ايشکے ناسی بھی اس کی مخالفت کر چکے ہيں۔

اس دوران ايران پر ممکنہ اسرائيلی حملے کا موضوع اخباری سرخيوں ميں بہت کم ہی نظر آرہا ہے، ليکن مير داگان اپنی رائے کا مسلسل اظہار کرتے رہتے ہيں۔ موساد کے سابق ڈائریکٹر نے ايک اسرائيلی ٹيلی وژن کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا کہ وہ وزير اعظم، وزير دفاع اور وزير خزانہ سب ہی کا احترام کرتے ہيں ليکن کوئی بھی انہيں اپنی رائے ظاہر کرنے سے روک نہيں سکتا۔

اکتوبر 2002: دائيں طرف سے، موساد کے سابق سربراہ افراہيم،وزير اعظم شيرون اور داگان، موساد کے نئے ڈائرکٹر کا عہدہ سنبھالتے وقت

اکتوبر 2002: دائيں طرف سے، موساد کے سابق سربراہ افراہيم،وزير اعظم شيرون اور داگان، موساد کے نئے ڈائرکٹر کا عہدہ سنبھالتے وقت

داگان کو حکومت کے معاون کی حيثيت سے آٹھ برس تک خاموش رہنا پڑا تھا ليکن اس سال کے شروع ميں ريٹائر ہونے کے بعد سے وہ بار بار وہ کچھ کہہ رہے ہيں، جو حکومتی سربراہ نيتن ياہو کے خيال ميں خفيہ ادارے کے کسی اہلکار کے ليے موزوں نہيں ہے۔ داگان بالکل کھل کر ايرانی ايٹمی تنصيبات پر بمباری سے خبردار کر رہے ہيں: ’’ميرے خيال ميں اس کے نتيجے ميں اسرائيل ايک علاقائی جنگ کی لپيٹ ميں آ جائے گا۔ سوال يہ ہے کہ اس حملے کے بعد کيا ہو گا۔ ميرا خيال ہے کہ بہت زيادہ تباہی ہو گی۔ اسرائيل ميں عام زندگی مفلوج ہو جائے گی۔ بہت زيادہ جانيں ضائع ہوں گی اور مستقل بنیادوں پر معمول کی زندگی گزارنا ممکن نہيں رہے گا۔‘‘

بُشير ميں ايرانی ايٹمی بجلی گھر

بُشير ميں ايرانی ايٹمی بجلی گھر

اس کے برعکس اسرائيلی وزير دفاع ايہود بارک ايران پر حملے کے نتائج کو قابل برداشت سمجھتے ہيں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر تمام اسرائيلی حفاظتی پناہ گاہوں کو استعمال کريں تو 500 سے زيادہ ہلاکتيں نہيں ہوں گی۔ فوجی خفيہ سروس کے سابق سربراہ يادين اس سے اتفاق کرتے ہيں ليکن اُن کا بھی نيتن ياہو کو مشورہ ہے کہ اپنے اتحاديوں سے صلاح مشورے انتہائی ضروری ہيں۔

رپورٹ: سباستيان اينگل بريشت، تل ابيب / شہاب احمد صديقی

ادارت: حماد کيانی

DW.COM