1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

او آئی سی کا فیکٹس فائنڈنگ مشن کشمیر جائے گا

او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر فیکٹس فائنڈنگ مشن کشمیر بھیجنے کا اعلان کردیا۔ اس موضوع پر وزیراعظم نوازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات بھی کی۔

نیو یارک میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو کسی ’جیل‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیلِٹ گن کے استعمال سے ہزاروں کشمیری بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلامی ممالک کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے لیے آواز بلند کریں۔

ملاقات کے حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ترکی کو بھی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بہت تشویش ہے۔ ترکی او آئی سی کا چیرمین ہے لہذا ترک صدر نے اعلان کیا ہے کہ او آئی سی کی انسانی حقوق کی کمیٹی کا ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن انڈیا بھیجا جائے گا، جو بھارتی حکومت سے بات کرے سکے تاکہ کشمیروں پر مظالم کا سلسلہ بند ہوسکے۔‘‘

ملیحہ لودی کے مطابق وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے میں بھی مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی پاکستان کو دھمکیوں سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، لہذا بین الاقوامی برادری اس معاملے کی شدت کا احساس کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرے۔

تاہم مبصرین پاکستانی کوششوں کو زیادہ کارگر ثابت ہوتا نہیں دیکھ رہے۔ سینیئر تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پاکستان نے معاملہ کو اٹھانے میں بہت تاخیر سے کام لیا ہے، اس مقصد کے لیے مسلسل محنت کرنا پڑے گی۔

وزیرر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ اگر بھارت نے او آئی سی کے انسانی حقوق کے تحت بنائے گئے فیکٹس مشین کو مقبوضہ وادی جانے کی اجازت نہ بھی دی تو مشن پاکستان آکر حقاق اکھٹا کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپانی ہم منصب سے ملاقات میں بھی وزیر اعظم نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور سفارتی محاذ پر پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کو بھارت میں نہ صرف کشمیر میں جاری ’امن دشمن پالیسی‘ سے آگاہ کیا جائے بلکہ پاکستان میں ’بھارتی مداخلت ‘کے بارے میں بھی آگاہ کیا جا سکے۔