1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

او آئی سی سمٹ: سوڈانی اور ایرانی صدور کودعوت پر یورپ کو اعتراض

استنبول میں پیر کے روز اسلامی کانفرنس تنظیم او آئی سی کا سربراہی اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کا مقصد تنظیم کی تجارتی امور کی مستقل کمیٹی کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔

default

یہ اجلاس اس لیے منقعد کیا گیا کہ او آئی سی کی اس کمیٹی کے قیام کو آج ٹھیک پچیس برس ہوگئے ہیں

یہ اجلاس اس لیے منقعد کیا گیا کہ او آئی سی کی اس کمیٹی کے قیام کو پیرکے روز ٹھیک پچیس برس ہوگئے ہیں۔ اس میں شرکت کے لیے ترک حکومت نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کو بھی دعوت دی تھی، جس پر مغربی دنیا کی طرف سے کافی زیادہ احتجاج کیا گیا۔

ماضی میں ترکی، مغربی دنیا کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات، نیٹو کی رکنیت اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی رابطوں کی وجہ سے یورپی یونین کے نہ صرف بہت قریب رہا بلکہ وہ یونین میں شمولیت کا خو اہشمند بھی ہے۔

ترکی کی طرف سے او آئی سی کی اس کانفرنس میں شمولیت کے لیے ایرانی اور سوڈانی صدور کو دی جانے والی دعوت کی بہت زیادہ مخالفت اس لیے کی گئی تھی کہ ایرانی صدر احمدی نژاد ماضی میں اسرائیل کے خلاف بہت سے شدید نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں، جبکہ سوڈائی صدر عمرحسن البشیر دارفور کے تنازعے میں اپنے مبینہ کردار کی وجہ سے دی ہیگ کی بین الاقوامی فوج داری عدالت کو مطلوب ہیں۔

ہیگ میں اس عدالت نے سوڈانی صدر کے بین اقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ خرطوم حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے سوڈانی صدر دارفور میں فوجی کارروئیوں کے ذمہ دار ہیں۔ بین الاقوامی عدالت نے عمر البشیر کو انسانیت کے خلاف اقدامات کے ارتکاب کا ملزم قرار دیا تھا۔ اسی وجہ سے یورپی یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ سوڈانی صدر کو ترکی پہنچنے پر گرفتار کر لیا جائے۔

اس کے برعکس ترکی نے اس تنازعے کے حوالے سے کہا کہ سوڈانی صدر اگر اس کانفرنس کے لیے ترکی آئے تو یہ ان کا دو طرفہ دورہ نہیں ہوگا بلکہ وہ او آئی سی کے ایک رکن ملک کے سربراہ کے طور پر ترکی آئیں گے۔

اس سلسلے میں ترک وزیر اعظم رجب طیب ایرودآن نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ان کے لیے یہ بات تسلیم کرنا ہی مشکل ہے کہ او آئی سی کے رکن کسی ملک کا سربراہ جنگی جرائم کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

سوڈانی صدر کی ترکی آمد کی صورت میں البشیر کو اس لئے بھی گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ ترکی نے ا بھی تک دی ہیگ کی اس عدالت سے متعلق بین الاقوامی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں اور نہ ہی ترک حکومت دی ہیگ میں قائم اس بین الاقوامی فوج داری عدالت کو تسلیم کرتی ہے۔

اس تنازعے کا بالاخر حل یہی نکلا کہ خود سوڈائی صدر ترک حکومت کے لئے کوئی نیا سفارتی مسئلہ کھڑا کرنے کے بجائے اس کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لیں۔

اس کے برعکس ایرانی صدر، دیگر کئی مسلم ملکوں کے رہنماؤں کی طرح استنبول پہنچے، جہاں انہوں نے او آئی سی کے اس اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر عبداللہ گل نے کہا کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم میں شامل ریاستوں کو آپس کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہیے۔ عبداللہ گل نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں میں او آئی سی کی مستقل کمیٹی برائے تجارت اور اقتصادیات نے بہت مثبت اور قابل تعریف کردار ادا کیا ہے۔

سربراہی اجلاس میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ مسلمان ملکوں کو باہمی تجارت کو فروغ دیتے ہوئے آپس میں ایک مشترکہ تجارتی علاقہ بھی قائم کرنا چاہیے۔

استنبول میں اس سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدرعبداللہ گل نے افغان صدر حامد کرزئی سے علٰحیدہ ملاقات کی، جس میں انہوں نے کہا کہ جب تک افغانستان اپنے سلامتی کے حوالے سے خود انحصاری کے قابل نہیں ہو جاتا تب تک ترک حکومت کابل کی فوجی اور مالی امداد کرتی رہے گی۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : عاطف توقیر