1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اویس علی شاہ کے اغوا میں طالبان اور القاعدہ ملوث تھے

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ کو خیبر پختونخواہ کے علاقے ٹانک سے ایک خفیہ آپریشن میں شدت پسندوں سے بازیاب کرالیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کار اویس علی شاہ کو برقعہ پہنا کر ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف لے جا رہے تھے۔ ٹانک جانے والے راستے میں ایک چیک پوسٹ پر ایک نیلے رنگ کی گاڑی چیکنگ کے لیے چوکی پرنہیں رکی اور ڈرائیور نے گاڑی کو بھگانے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی افواج کے اہلکار نے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اس گاڑی میں سے مزید دو اغوکار بھی تھے جنہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم انھیں بھی ہلاک کر دیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ فوج کے پاس اویس شاہ کی ٹانک کے علاقے میں موجودگی کے شواہد تھے۔ عاصم باجوہ نے اویس شاہ کی بازیابی کی تصدیق پیر کو رات گئے ٹوئٹر پر کر دی تھی۔

عاصم باجوہ نے کہا،’’ اویس علی شاہ برقعہ میں تھے اور ان کے منہ پر ٹیپ لگی ہوئی تھی، جب ٹیپ اتاری گئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ اویس علی شاہ ہیں اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے ہیں۔ انہیں بعد میں قریبی کیمپ لے جایا گیا جہاں ان کے پیروں میں لگی زنجیر کو توڑا گیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی افواج کے کئی اہلکار اس آپریشن کی کامیابی کے لیے رات بھر سے جاگے رہے تھے۔

جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ اویس شاہ کے اغوا میں تحریک طالبان پاکستان کا ایک منحرف گروہ اور القاعدہ ملوث تھے۔ اویس شاہ کی بازیابی پر کئی افراد نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کیا۔

اویس شاہ کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ صبح ساڑھے نو بجے ملایا گیا۔ ان کے والد نے اپنے بیٹے سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا،’’صبح کے تین بجے آرمی چیف نے فون پر میرے بیٹے کی بازیابی کی اطلاع دی تھی۔‘‘ سجاد علی شاہ نے کہا کہ صرف پاکستان کی فوج میرے بیٹے کی بازیابی کی ذمہ دار ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران عاصم باجوہ نے کہا کہ علی حید گیلانی، شہباز تاثیر اور اویس علی شاہ کو اغوا کر کے دہشت گرد خوف پھیلانا چاہتے تھے۔ ’’ہم ان افراد کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے صبر سے یہ مشکل وقت گزارا۔‘‘

جنرل باجوہ کی ٹویٹ کے مطابق آرمی چیف نے انٹیلیجنس اور سکیورٹی اداروں کی کامیاب کارروائی کو سراہا ہے۔

DW.COM