1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوگرا کے چیئرمین کی تقرری کالعدم

پاکستانی سپریم کورٹ نے ملک میں تیل و گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے اور انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے (اوگرا) کے چیئرمین توقیر صادق کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب کو ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

default

چیئرمین اوگرا کی تقرری کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ نے دیا۔ اوگرا کے چیئرمین توقیر صادق کی تقرری کو ادارے کے ایک ملازم محمد یاسین نے چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مطلوبہ تعلیم اور تجربہ نہ ہونے کے سبب توقیر صادق اس عہدے کے اہل نہیں ہیں۔ چیئرمین اوگرا جو پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر کے برادر نسبتی بتائے جاتے ہیں کے خلاف عدالتی فیصلے پر حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے قریبی ساتھی عدنان خواجہ کو بھی مطلوبہ اہلیت نہ ہونے کے سبب ان کو ملک میں تیل و گیس کی ترقی کے ادارے (او جی ڈی سی ایل) کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

انگریزی اخبار نیوز سے وابستہ کالم نگار اور تجزیہ کار غازی صلاح الدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اداروں کا بحران سب سے اہم مسئلہ ہے اور چیئرمین اوگرا کے خلاف فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ اس طرح کے کسی معاملے پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا ’’اس ملک میں تو روایت ہی یہ رہی ہے کہ ان لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جائے، جو آپ کے دوست ہیں یا آپ سے ان کا کوئی رشتہ ہے یا وہ آپ کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اس روایت کو ٹوٹنا چاہیے۔ یہ اچھی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے ان چیزوں پر ارتکاز ہوتا ہے اور اگر سپریم کورٹ اس طرح کے اور فیصلے کرے گی تو وہ (حکومت) کسی کی تعیناتی سے قبل سوچے گی۔‘‘

Pakistan Oberster Gerichtshof in Islamabad

ایسے انتظامی اداروں میں تعیناتی کے لیے میرٹ کا خیال رکھاجانا ضروری ہے، عدالت عظمیٰ

خیال رہے کہ گزشتہ مئی میں عدالت نے صدر زرداری کے قریبی ساتھی جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی بطور چیئرمین نیب تقرری کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے خلاف پیپلز پارٹی نے سندھ میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ جس پر پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں شرجیل میمن اور تاج حیدر کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اسی سبب چیئرمین اوگرا کی تقرری کوکالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ ایسے انتظامی اداروں میں تعیناتی کے لیے میرٹ کا خیال رکھاجانا ضروری ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی اور سپریم کورٹ کے وکیل نصیر بھٹہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگر عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کیا تو پھر ملک میں کوئی بھی ادارہ بدعنوانی سے پاک نہیں رہ سکے گا۔ ’’ہم تو چاہتے ہیں کہ عدالتی احکامات پر عمل ہونا چاہیے۔ جس پر الزام ہو اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں آنا چاہیے۔ جب تک عدالتوں کے فیصلوں کو مانا نہیں جائے گا حالات درست نہیں ہو سکتے۔ خاص طور پر اب تو میرا خیال ہے کہ زرداری صاحب بھی مستعفی ہوں اور وہ مقدمے کا سامنا کریں اور خود کو عدالت کے سامنے پیش کریں تا کہ یہ معاملات ہمیشہ کے لیے حل ہوں۔‘‘

دریں اثناء سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے خلاف عدالتی فیصلے پر حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کے سترہ رکنی لارجر بینچ نے جمعے کے روز متفقہ طور این آر او کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ وفاق یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ این آر او کے فیصلے سے متاثر ہوا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ این آر او کے خلاف فیصلے کا برقرار رہنا پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے بڑا دھچکاہے کیونکہ اسے اب صدر زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنا پڑے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق