1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوپیک کی طرز پر گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم؟

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کی طرح گیس برآمد کرنے والے ملکوں کی بھی ایک تنظیم قائم کرنے کا خیال ٹھوس شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

default

امریکہ اور یورپی یونین پہلے ہی اس بارے میں تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ اس تنظیم کا بنیادی مقصد باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔

امریکہ اور یورپی یونین پہلے ہی اس بارے میں تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ اس تنظیم کا بنیادی مقصد باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔ ماسکو میں آج گیس برآمد کرنے والے 14 ملکوں کے توانائی کے وزرا کا ایک اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر اعظم ولاڈی میر پوٹین نے کہا کہ سستی گیس کی فراہمی کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر گیس کی برآمدی منڈی میں روس کا حصہ 22 فی صد ہے۔ چنانچہ نئی تنظیم کے قیام کے بعد روس کو گیس کی برآمدات اور ترسیل کے طریقہ کار پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

Erdgasförderung im Iran

سستی گیس کی فراہمی کا دور اب ختم ہو رہا ہے۔

دوسری جانب روسی گیس کنسرن Gasprom کے نائب صدر Alexander Medwedew کا کہنا ہے:’’اوپیک کا طریقہ کار گیس کی منڈی پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اوپیک کے رکن ممالک پیداواری کوٹے کے ذریعے قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے کاروبار پر اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہم طویل المیعاد بنیادوں پر گیس فروخت کرتے ہیں۔ ہمارے معاہدوں میں قیمتیں بھی طے شدہ ہوتی ہیں اور گیس فراہمی کا طریقہ بھی۔‘‘

Pipeline von Gazprom in Ukraine

ماسکو میں آج گیس برآمد کرنے والے 14 ملکوں کے توانائی کے وزرا کا ایک اجلاس ہوا

یہ بات کسی حد تک درست ہے ۔ مثلا توانائی کے شعبے کی ایک بڑی جرمن کمپنی E.On اور BASF کی شاخ Wintershall کے ساتھ Gasprom نےگیس ترسیل کے جو معاہدے طے کر رکھے ہیں وہ 2036 اور2043 تک پھیلے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گیس کی ترسیل پائپ لائنوں کے ذریعے ہوتی ہے، جبکہ اس کے برعکس تیل بحری جہازوں اور دیگر ذرایع سے بھیجا جاتا ہے۔ جس سے قیمتوں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔