1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوپیک کی تیل کی پیداوار میں ممکنہ کمی، فائدہ روس کو ہو گا

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کی یومیہ پیداوار میں ممکنہ کمی کا فائدہ روس کو ہو گا، جس کی اپنی پیداوار پہلے ہی ریکارڈ حد تک زیادہ ہے لیکن جسے عالمی منڈیوں میں بہت کم قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس موضوع پر روسی دارالحکومت ماسکو سے نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اتوار ستائیس نومبر کو اپنی ایک مفصل رپورٹ میں لکھا ہے کہ روس کا المیہ یہ ہے کہ اس کی تیل کی یومیہ پیداوار تو ریکارڈ حدوں کو چھو رہی ہے لیکن اس کو دستیاب مالی وسائل مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ روس ان ملکوں میں شامل ہے، جو اپنے سالانہ بجٹ کے لیے مجموعی مالی وسائل کا بہت بڑا حصہ تیل اور گیس کی برآمد سے حاصل کرتے ہیں۔

دوسری طرف اوپیک کے رکن ممالک کی کوشش یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی مسلسل بہت کم  قیمتوں کو سنبھالا دینے کے لیے اپنی پیداوار کچھ کم کر دیں کیونکہ اگر رسد کم ہو گی تو طلب زیادہ ہو گی اور یوں قیمتیں بھی بڑھیں گی۔

اوپیک ممالک نے ابھی تک اپنی مجموعی یومیہ پیداوار میں کمی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لیکن اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا، تو اس میں روس کا، جو کہ اوپیک کا رکن نہیں ہے، کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ بلکہ ماسکو کو تو الٹا اس کا فائدہ ہی ہو گا۔ یعنی اگر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، تو ماسکو کو برآمدی تیل سے ہونے والی آمدنی بھی بڑھے گی۔

اس تناظر میں ماسکو کی کوشش ہے کہ تیس نومبر آئندہ بدھ کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اوپیک کے وزرائے تیل کا جو اجلاس ہو گا، اس میں بالآخر یہ طے پا ہی جانا چاہیے کہ یہ تنظیم اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کر دے گی۔

Yukos Russland Öl Raffinerie (picture-alliance/dpa)

روس کا شمار دنیا میں تیل برآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں ہوتا ہے

روس ویانا میں اپنا یہ مقصد اس لیے بھی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اسی سلسلے میں اوپیک کا اس سال موسم بہار میں دوحہ میں ہونے والا ایک اجلاس ناکام رہا تھا۔ اس اجلاس میں کوئی اتفاق رائے تو نہیں ہو سکا تھا بلکہ رکن ملکوں کے مابین اختلاف رائے مزید کھل کر سامنے آ گیا تھا۔

روس سعودی عرب اور امریکا کی طرح دنیا میں تیل پیدا اور برآمد کرنے والے بہت بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سعودی عرب تو اوپیک کا رکن ہے لیکن روس کی طرح امریکا بھی اس تنظیم میں شامل نہیں ہے۔

ماسکو اب تیل برآمد کرنے والے ’حریف‘ ملکوں کی طرف سے پیداوار میں کمی کا خواہش مند اس لیے بھی ہے کہ ایک تو اس نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تیل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں کے بہت کم رہنے کی وجہ سے اقتصادی حوالے سے اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے اور دوسرے یہ کہ یوکرائن کے تنازعے کے باعث مغربی دنیا کی طرف سے روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں بھی ماسکو کے لیے اقتصادی مشکلات کا باعث بنی ہیں۔

Saudi Arabien Dhahran Öl-Raffinerie (picture-alliance/dpa)

دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کے شہر دہران کی ایک آئل ریفائنری

ان حالات میں  روس کو مالیاتی حوالے سے اپنے لیے زیادہ آمدنی کا امکان اس بات میں نظر آتا ہے کہ اوپیک اگر اپنی پیداوار میں ممکنہ کمی پر اتفاق کر سکتی ہے تو روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی کہہ دیا تھا کہ روس، جس کی تیل کی پیداوار اس وقت ریکارڈ حد تک زیادہ ہے، اپنی یومیہ پیداوار میں کوئی کمی نہیں کرے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ اپنی پیداوار کو اس کی موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گا۔

DW.COM