1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اوپیک تیل کی پیدوار کم کرنے پر متفق‘

اوپیک ممالک آٹھ برس بعد پہلی مرتبہ تیل کی پیداوار کم کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی مسلسل کم ہوتی قیمتوں کو سنبھالا دینے کی خاطر یہ اتفاق رائے کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ تیل پیدا کرنے والی ممالک کی تنظیم بدھ کے دن ایک اجلاس میں خام تیل کی یومیہ پیداوار کو کم کرنے پر متفق ہو گئی ہے۔ 

اوپیک کی تیل کی پیداوار میں ممکنہ کمی، فائدہ روس کو ہو گا

عراق بذریعہ ایران خام تیل فروخت کر سکتا ہے

خام تیل کی پیداوار: اوپیک اجلاس میں ایران کی عدم شرکت

ذرائع کے مطابق اس تنظیم کا ایک اہم رکن ملک سعودی عرب اپنی تیل کی یومیہ پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کرنے کو تیار ہے۔ ایران بھی اپنے ملک میں تیل کی پیداوار کو کم کرتے ہوئے اس حد تک لے جانے پر متفق ہو گیا ہے، جو اس پر عائد عالمی پابندیوں کے دور میں تھی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اوپیک کے رکن ممالک ستمبر میں الجزائر میں ہوئی ملاقات میں طے کردہ اس مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کو تیار ہو گئے ہیں، جس کا مقصد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی یومیہ پیداوار کو کم کرنا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ دراصل اس اہم جنس کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی طلب و رسد میں ایک خاص توازن سے تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

ویانا میں ہونے والے اوپیک کے اس تازہ اجلاس سے قبل سعودی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ اوپیک کی کوشش ہے کہ تیل کی پیداوار 32.5 ملین بیرل فی دن تک لائی جائے۔ خالد الفالح کے مطابق وہ امید کرتے ہیں کہ روس اور دیگر ایسے ممالک جو اوپیک کے رکن نہیں ہیں، وہ بھی خام تیل کی یومیہ پیداوار کو کم کر دیں گے تاکہ عالمی منڈی میں استحکام لایا جا سکے۔

الفالح نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر اوپیک کی اس میٹنگ میں واضح نتیجہ نہ نکلا تو عالمی منڈیاں آہستہ آہستہ خودبخود ریکور کر لیں گی۔ اوپیک تنظیم کی حالیہ عرصے میں ہونے والی ملاقاتوں میں ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات کے باعث کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

DW.COM