1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوپیک اجلاس: تیل کی پیداوار میں کٹوتی موخر

تیل درآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا اجلاس آسٹریا کے شہر ویانا میں آج جاری رہا جس میں تیل کی پیداوار میں کٹوتی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

default

آسٹریا کے دارلحکومت ویانا میں اوپیک کا صدر دفتر

اوپیک کے اجلاس میں تیل برآمد کرنے والے بارہ ممالک نے تیل کی پیداوار میں مئی تک کوئی کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے لیے کئی ممالک کی جانب سے دباؤ تھا۔ ان میں الجزائر، وینزویلا اور قطر شامل ہیں جن کی کی تجویز تھی کہ تیل کی پیداوار میں مزید کمی کی جائے۔ واضح رہے کہ عالمی مالیاتی بحران کے بعد ستمبر سے اب تک اوپیک تیل کی پیداوار تین مرتبہ کم کرچکی ہے۔

OPEC dreht an Ölhahn

مئی تک تیل کی پیداوار میں مزید کمی نہیں کی جائے گی، اوپیک کا فیصلہ


امکان ہے کہ تیل کی ڈیمانڈ میں اس برس مزید کمی واقع ہو سکتی ہے اور اس باعث اوپیک یہ نہیں چاہتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہو۔ اس برس تیل کی فی بیرل قیمت چالیس ڈالرز ہو چکی ہے جب کہ پچھلے برس یہ سو ڈالرز تھی۔

اس ضمن میں اٹھائیس کو مئی کو ایک اور اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

اس اجلاس کی ایک اہم بات اس میں روس کی شمولیت بھی تھی جس کے مندوب کو مبصر کے طور پر اس اجلاس میں بھیجا گیا تھا۔ روس کے مطابق وہ اوپیک اجلاس میں مستقل طور پر اپنا نمائندہ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔