1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوٹویا جزیرے پر حملہ بریوک کا پلان بی تھا، وکیل

ناروے میں دائیں بازو کے انتہاپسند آندرس بیہرنگ بریوک کے وکیل نے کہا ہے کہ اوٹویا جزیرے پر قتل عام کی کارروائی ان کے مؤکل کا پلا ن ’بی‘ تھا۔

default

آندرس بیہرنگ بریوک

آندرس بیہرنگ بریوک کے وکیل نے جمعے کو بتایا کہ اس نے رواں برس بائیس جولائی کے حملوں میں وزیر اعظم کے دفاتر کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن وہاں نصب کیا گیا بم نہ پھٹنے پر وہ اوٹویا جزیرے پر قتلِ عام کے لیے نکلا۔

وکیل صفائی Geir Lippestad نے روزنامہ ’وی جی‘ کو بتایا: ’’یہ واضح طور پر اس دھماکے کا نتیجہ تھا، جس کی وجہ سے اس نے اوٹویا جانے کا فیصلہ کیا۔‘‘

اوٹویا میں سینکڑوں نوجوان حکمران لیبر پارٹی کی جانب سے منعقد کیے گئے سمر کیمپ میں شریک تھے۔ اس اخبار نے پولیس کی جانب سے بریوک سے کی گئی تفتیش کے مسودے کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ بریوک لیبر پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں میں سے ایک کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔

بائیس جولائی کو بریوک نے پہلے اوسلو میں سرکاری عمارتوں کے باہر ایک کار بم دھماکہ کیا۔ وہاں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد وہ اوسلو کے شمال مغرب میں تقریباً چالیس کلومیٹر پر واقع اوٹویا جزیرے پر چلا گیا۔ اس وقت وہ پولیس اہلکار کا رُوپ دھارے ہوئے تھا۔ وہاں اس نے تقریباﹰ ڈیڑھ گھنٹہ گزارا اور اس دوران سمر کیمپ میں شریک افراد میں سے انہتر کو قتل کیا، جن میں سے بیشتر جواں سال تھے۔ پھر اس نے گرفتاری پیش کر دی تھی۔

Norwegen Attentat Anwalt Geir Lippestad

بریوک کے وکیل صفائی

’وی جی‘ اخبار کے مطابق بریوک نے جزیرے پر قتل وغارت کا فیصلہ اس وقت کیا، جب اس نے ریڈیو پر سنا کہ اوسلو میں دھماکے کے نتیجے میں سترہ منزلہ سرکاری عمارت منہدم نہیں ہوئی۔

پولیس نے جمعے کو ایک بیان میں ان معلومات کے منظرِ عام پر آنے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیا  اور کہا ہے کہ انہیں عام کرنے والے کا پتہ چلانے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

وکیل صفائی اور پولیس دونوں ہی قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ بریوک نے اپنے دونوں حملوں سے پہلے متعدد مخصوص اہداف ذہن میں رکھے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس