1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اوول پرتاریخی فتح، پاکستان کا سر فخر سے بلند

پاکستانی ٹیم نے اوول ٹیسٹ دس وکٹوں سے جیت کر سترواں یوم آزادی منانے والے ہم وطنوں کی خوشیاں دوبالاکردی ہیں۔ پاکستان کو کامیابی کے لیے چالیس رنز بنانا تھے۔ اظہرعلی نے معین علی کو فلک شگاف چھکا لگا کرپاکستان کو سرخرو کیا۔

پاکستان نے اپنی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک کے خلاف ٹیسٹ سیریز دو دو سے برابر ختم کی ہے۔

اتوار کو جب چوتھے ٹیسٹ کے چوتھے دن کا کھیل شروع ہوا تو انگینڈ کو اننگز کی شکست کا خطرہ تھا۔ انگریز وکٹ کیپر جانی بیر سٹو نے اکیاسی رنز بنا کر پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی لیکن وہاب ریاض نے کھانے کے وقفے کے بعد دو گیندوں میں کرس ووکس اور بیرسٹو کو باہر کرکے میزبان بیٹنگ کو پسپا کردیا۔ پہلی اننگز میں تین سو اٹھائیس رنز بنانے والی انگلینڈ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں دو سو تریپن رنز پر ہمت ہار گئی۔ یاسر شاہ نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں لیکن مرد میدان یونس خان کو قرار دیا گیا، جنہوں نے دو سو اٹھارہ رنز بنا کر اوول پر پاکستان کی پہلی میچ وننگ ڈبل سینچری اسکور کی تھی۔ مصباح کو مین آف دی سیریز کا ایوارڈ ملا۔ مصباح کا کہنا تھا کہ ٹیم نے کریکٹر دکھا کر جشن آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حنیف محمد سے منسوب کرتے ہیں۔

دیرآید درست آید

اوول ٹیسٹ کے پہلے دن تک یونس خان کے ستارے گردش میں لگ رہے تھے۔ لارڈز، اولڈ ٹریفورڈ اورایجبیسٹن میں مسلسل چھ اننگز کی ناکامی اور گیند کھیلتے ہوئے بے جا اچھل کود پر کرکٹ پنڈتوں اوران کے پرستاروں کو یہ اندیشہ ستانے لگا تھا کہ اڑتیس سالہ بیٹسمین اب جنتری سے جنگ ہارنے والے ہیں۔ پاکستان کے نیوکلیر سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان، جو ایک فرسٹ کلاس کرکٹ ٹیم کے بانی بھی ہیں، نے اپنے ایک اخباری کالم میں لکھا کہ یونس فاسٹ بولرز کے سامنے اب ایک بزدل اور اناڑی کھلاڑی بن چکے ہیں۔ یونس کے پچھلے پیر کے بے ڈھنگے رقص پر جیفری بایکاٹ نے پھبتی کسی کہ ’’مجھے یونس کی بیٹنگ دیکھ کر بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی وہ ہیروئن یاد آ رہی ہے، جو بوس وکنار کے وقت اپنا پچھلا پاؤں ہوا میں اٹھا لیتی تھیں۔‘‘

ان حالات میں صرف مصباح الحق وہ شخص تھے، جو یونس کی مسلسل وکالت کر رہے تھے۔ کپتان نے برمنگھم اور مانچسٹر کی طرح لندن واپس آکر بھی یہی کہا کہ ان کا خان پراعتماد مجروح نہیں ہوا۔ اور پھر اس ویک اینڈ پر اوول پر جس شخص کی حکمرانی رہی، وہ یونس خان ہی تھے۔

معین علی جنہوں نے سیریز میں یونس کو دو بار آؤٹ کیا تھا، اپنا 23 واں اوور کرنے آئے تو یونس نے لانگ آن پر انہیں چوتھا چھکا لگا کرڈبل سینچری مکمل کی۔ چند ہفتوں کے بعد سہی لیکن بیٹنگ کا بادشاہ اوول پہنچ گیا تھا۔ مصباح نے میچ کے بعد کہا کہ یہ ایک چمپیئن کی اننگز تھی۔

Pakistan Cricket Misbah Ul Haq

مصباح الحق نے یونس خان کی اننگز کو چیمپیئن کی اننگز قرار دیا

بھارت سے موصولہ ایک کال کام کر گئی

یونس خان کا میچ کے بعد کہنا تھا کہ میچ سے پہلے انہیں سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین کا ٹیلی فون آیا تھا۔ اظہر نے کریز پر میرے کھڑے ہونے کے انداز کو بدلنے کا مشورہ دیا۔ یونس کے بقول وہ ہمیشہ دوسروں کے مشوروں کا احترام کرتے ہیں اور اظہرالدین کی بات مان کر انہوں نے اپنے بیٹنگ اسٹانس میں معمولی سی تبدیلی کی۔ یوں بھارت سے آنے والی کال کام کر گئی۔

انگریزوں کے ہاتھ میں مکھن لگا

انگینڈ کے جوروٹ پانچ سو بارہ رنز بنا کر سیریز کے سب سے کامیاب بیٹسمین اور کرس ووکس چھبیس وکٹوں کے ساتھ بولر رہے۔ پاکستان کی طرف سے یاسر شاہ نے سب سے زیادہ انیس کھلاڑی آوٹ کیے۔ یونس خان تین سو چالیس اور مصباح دو سو بیاسی کے ساتھ رنز کی دوڑ میں اپنے ہم وطنوں سے آگے رہے۔ اس سیریز میں دونوں ٹیموں نے حیران کن طور پر اٹھائیس کیچز چھوڑے۔ پاکستانی فیلڈرکا کیچ چھوڑنا معمول سمجھا جاتا ہے لیکن حیرت کی انتہا یہ تھی کہ اس دورے میں انگریز کھلاڑیوں نے پاکستانیوں کو اس دوڑ میں پندرہ تیرہ سے پیچھے چھوڑ دیا۔ دونوں طرف سے چار ٹیسٹ میچوں پچیس سلپ کیچز گرائے گئے۔ انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک اور جو روٹ جیسے منجھے ہوئے سلپرز بھی غلطیاں کرتے نظر آئے جب کہ پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ، اظہر اور یونس خان کے ہاتھ آئے بعض کیچز نکل گئے۔ اوول پر اسد شفیق کا کیچ چھوڑنا میزبانوں کو مہنگا پڑا۔

بچہ بغل میں ہی تھا

اس صدی میں پاکستان اوپننگ جوڑی کا متلاشی رہا ہے۔ چھ برس پہلے سلمان بٹ کے منظر سے ہٹنے کے بعد یہ کام اور مشکل ہو گیا تھا۔ سلیکٹرز نے محمد حفیظ کے ساتھ توفیق عمر، عمران فرحت، احمد شہزاد، خرم منظور اور شان مسعود وغیرہ سب کو آزمایا لیکن بات نہ بن سکی۔ ایک سابقہ چیف سلیکٹرآنکھوں میں دھول جھونکنے کےلیے کہتے رہے، ’’بس یہی کھلاڑی ہیں، ہمارے پاس۔‘‘

لیکن کہتے ہیں دنیا کا ہرمسئلہ حل ہونے کے لیے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اب نوجوان سمیع اسلم کی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی اور اظہر کی بیٹنگ آرڈر میں پروموشن سے پاکستان کا یہ درد سر ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔ سمیع نے ایجبیسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں دنیا کے بہترین بولنگ اٹیک کے خلاف پے درپے نصف سینچریاں اور اظہرعلی نے اوول پر ذمہ دارانہ انچاس رنز بنائے۔ پاکستان کی دائیں بائیں کی یہ نئی اوپننگ جوڑی جو نئے کوچ مکی آرتھر کی اصرار پر بنی ہے، ہِٹ ہوتی نظر آرہی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سمیع اسلم گزشتہ چھ برس سے پاکستان کرکٹ کے سسٹم میں تھے یعنی بغل میں چھورا اور شہر میں ڈھنڈورا۔

Pakistan Cricket Spieler Hanif Mohammad

پاکستانی ٹیم نے اپنی فتح حال ہی میں انتقال کر جانے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد کے نام کر دی

دم کو بھی آخر ہلنا تھا

مشکل حالات میں ٹیل اینڈرز کا رنز بنانا کرکٹ کے کھیل میں ٹیم اسپرٹ کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ پانچ برس سے پاکستانی ٹیل کا مذاق اڑتا رہا۔ لارڈز ٹیسٹ کی آخری اننگز میں عامر، وہاب اور یاسر اسکور میں معمولی اضافہ ہی کر سکے۔ لیکن اوول پر پاکستان کے آخری تین کھلاڑی اسکور میں ایک سوچوالیس رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستانی بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور ٹیل اینڈرز کو ان دنوں گھنٹوں بیٹنگ سکھاتے نظر آرہے ہیں لیکن اوول پر ٹیل کی کامیابی کا راز یونس خان تھے جن کی کریز پر موجودگی نے پاکستانی بولرز کا بیٹنگ کرتے ہوئے سارا خوف ختم کر دیا تھا۔

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

گز شتہ دو دوروں میں پاکستان نے انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کا اختتام فورفیٹ اور فکسنگ کی سبکیوں کے ساتھ کیا تھا لیکن مصباح کی قیادت میں پاکستانی کھلاڑیوں نے میدان اور میدان سے باہر مثالی رویے کا مظاہرہ کیا۔ البتہ یہ بات انگریز کھلاڑیوں کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اوپنر الیکس ہیلز پوری سیریز میں پاکستانی بولرز کے سامنے بھیگی بلی بنے رہے اور آٹھ اننگز میں ایک بھی نصف سینچری نہ بنا سکے۔ اس حالت محرومی میں اوول ٹیسٹ کے پہلے روز کیچ آوٹ دیے جانے کے واقعے پر احتجاج کرنے وہ سیدھا تیسرے امپائر کے کمرے میں جا پہنچے۔ فلیڈ پر بھی ہیلز یاسر شاہ سے بچگانہ حرکتیں کرتے رہے، جس پر آئی سی سی کو حرکت میں آنا پڑا۔ انگلش اوپنر پر میچ فیس کا پندرہ فیصد جرمانہ عائد کیا گیا جب کہ ہیلز کی ٹوئٹر پر حمایت کرنے پہ ان کے ساتھی کھلاڑی اسٹورٹ براڈ کو بیس فیصد میچ فیس سے ہاتھ دھونا پڑے۔