1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اوول ٹیسٹ پر پاکستان کی گرفت مضبوط

چارٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے دومیچوں میں بری طرح شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کا زبردست کم بیک سامنے آیا ہے۔ اسے میزبان ٹیم پر پہلی اننگز میں 75 رنز کی برتری حاصل ہے۔

default

لندن کے اوول میدان پرجاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو میزبان انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں چھ رنز بنائے تھے جبکہ اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ بھی ہوچکا تھا۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 308 رنز بناکر انگلینڈ پر 75 رنز کی سبقت حاصل کرلی تھی۔ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ سکور نوجوان بیٹسمین اظہر علی نے کیا۔ وہ 92 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے بغیر واپس لوٹے۔ پاکستانی اننگز کی دوسری اہم بات ریٹائرمنٹ ختم کر کے ٹیم میں شامل ہونے والے کرکٹر محمد یوسف کی اننگز تھی۔ وہ 56 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ نمایاں سکور کرنے والے دیگر کھلاڑیوں میں عمر اکمل اور یاسر حمید بھی شامل تھے جنہوں نے بالترتیب 38 اور 36 رنز سکور کئے۔

Pakistan Kricket Team in England

محمد آصف نے پہلی اننگز میں 68 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔

انگلینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ چار وکٹیں جی پی سوان نے حاصل کیں جبکہ انڈریسن اور براڈ نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 233 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی۔ پاکستان کی طرف سے کامیاب ترین بالر وہاب ریاض رہے، جنہوں نے 63 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عامر ملک کے اس الزام کو، جس میں انہوں نے چیئر مین پی سی بی اعجاز بٹ کو ملکی کرکٹ کے زوال اور بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، سختی سے مسترد کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان ندیم سرور کا کہنا ہے کہ ٹیم انتظامیہ اور بورڈ کے انتظامی امور کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے عامر ملک کو پی سی بی کے خلاف نکتہ چینی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ عامر ملک کے اپنے بیان میں ہی تضاد ہے۔ ایک طرف وہ بورڈ پر چڑھائی کر رہے ہیں اور دوسری جانب اسی PCB کے مقرر کر دہ کوچز کے معترف بھی ہیں۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس