1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اوول ٹیسٹ میں پاکستان کی جیت

پاکستان نے اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دے کر سیریز کی پہلی جیت اپنے نام کرلی ہے۔

default

کیننگٹن اوول کے میدان پر کھیلے گئے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کے لئے 148 رنز کا آسان ہدف دیا تھا ۔ سیریز کے اس تیسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کھیل کے چوتھے روز اپنی دوسری اننگز میں 222 رنز پر آؤٹ ہوئی۔

پاکستانی ٹیم 148 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتداء ہی سے کچھ مشکلات کا شکار نظر آئی۔ افتتاحی بلے باز یاسر حمید بغیر کھاتہ کھولے ہی دوسری سلپ میں کھڑے گرایم سوان کو کیچ دے بیٹھے۔ انہیں جیمز اینڈرسن نے آؤٹ کیا۔ اس کے بعد کپتان سلمان بٹ نے آکر عمران فرحت کا ساتھ دیا اور پچاس رنز کی شراکت قائم کی۔

Cricketspieler Mohammad Yousuf

محمد یوسف نے ذمہ دارنہ انداز سے کھیلتے ہوئے پہلی اننگز میں 56 اور دوسری میں 33 رنز بنائے

57 کے مجموعی سکور پر فرحت 33 رنز بنانے کے بعد سوان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد تجربہ کار محمد یوسف میدان میں اترے اور کپتان بٹ کے ساتھ مجموعی سکور 103 رنز تک لے گئے۔ اس موقع پر کپتان بٹ اپنی نصف سینچری سے محض 2 رنز کے فاصلے پر تھے کہ سوان کی باؤلنگ پر کولنگ ووڈ کو کیچ دے بیٹھے۔ یوسف ٹیم کو جیت کے قریب لاکر 33 کے مجموعی سکور پر میدان سے لوٹ گئے۔ چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد 42 ویں اوور میں پاکستان نے 148 رنز کا ہدف حاصل کیا۔

اس سے قبل چوتھے روز انگلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز 221 رنز 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر شروع کیا۔ پاکستان کی جانب سے فاسٹ باؤلر محمد عامر نے پہلے اوور کی چوتھی گیند پر سٹیورٹ بروڈ کو آؤٹ کرکے معاملہ نمٹادیا۔

Cricket - England gegen Indien

انگلینڈ کے لئے دوسری اننگز میں نمایاں بلے باز الیسٹر کوک رہے جنہوں نے 110 رنز بنائے

عامر نے انگلینڈ کی دوسری اننگ میں شاندار گیند بازی کرتے ہوئے 52 رنز کے عوض پانچ انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پاکستان کو ٹیسٹ جیتنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔

آف سپنر سعید اجمل نے 71 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کے لئے دوسری اننگز میں نمایاں بلے باز الیسٹر کوک رہے جنہوں نے 110 رنز بنائے۔ محمد عامر کو مجموعی طور پر دس وکٹیں حاصل کرنے پرمیچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سیریز میں انگلینڈ کو ایک کے مقابلے میں دو سے برتری حاصل ہے۔

رپورٹ :شادی خان سیف

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM