1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوول آفس ميں ڈونلڈ ٹرمپ کے سو دن: کيا کھويا، کيا پايا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے امريکی صدر کے طور پر اپنے پہلے ايک سو روز مکمل کر ليے ہيں۔ اس موقع پر انہوں نے رياست پنسلوينيا ميں ايک بڑی ريلی سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ اور سابق صدر باراک اوباما پر تنقيد کی اور اپنے اقدامات کو سراہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس ميں اپنے پہلے ايک سو ايام کو ايک ’حيرت انگيز سفر‘ سے تعبير کيا ہے۔ رياست پنسلوينيا کے شہر ہيرس برگ ميں اپنے ہزاروں حاميوں سے ہفتہ انتيس اپريل کے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہائی کارآمد سو دن مکمل ہو گئے ليکن ابھی آگے کئی امتحانات اور آزمائشيں ہيں۔

صدر ٹرمپ نے تقريباً ايک گھنٹہ طويل اپنی تقرير ميں سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ ساتھ ملکی ذرائع ابلاغ کو بھی کڑی تنقيد کا نشانہ بنايا۔ انہوں نے امريکا کے صنعتی شعبے اور فوج کے ليے اپنی حمايت کو بڑھ چڑھ کر بيان کيا۔ ٹرمپ نے شمالی کوريا اور ديگر اہم عالمی امور پر اپنی انتظاميہ کی خارجہ پاليسيوں کو بھی واضح کيا، جس کا ريلی کے شرکاء نے پر جوش انداز ميں تالياں بجا کر جواب ديا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’’قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارآمد کارروائيوں کے نتيجے ميں منشيات کا کاروبار کرنے والوں، خطرناک گروہوں کے ارکان اور قاتلوں کو ملک سے بھگايا جا رہا ہے۔‘‘ ايک موقع پر ان کا يہ بھی کہنا تھا کہ وہ اسلام پسند دہشت گردوں کو اپنے ملک سے دور رکھيں گے۔

اپنی تقرير ميں امريکی صدر نے يہ عنديہ بھی ديا کہ امکاناً امريکا ماحولياتی تبديليوں کو محدود رکھنے کی غرض سے ترتيب ديے جانے والے پيرس معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کے بقول وہ ’يکطرفہ پيرس معاہدے‘ کے حوالے سے آئندہ دو ہفتوں ميں ايک اہم اعلان کرنے والے ہيں۔

اسی دوران ملکی میڈیا کے حوالے سے ٹرمپ کی ناپسندیدگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ہفتے کے روز جس وقت ٹرمپ نے يہ تقرير کی، عين اسی وقت واشنگٹن ميں سالانہ وائٹ ہاؤس کارسپونڈنٹس ڈنر جاری تھا، جس ميں ٹرمپ نے شرکت نہيں کی۔ چھتيس سالوں ميں يہ پہلا موقع تھا کہ جب ملکی صدر نے اس تقريب ميں شرکت نہيں کی۔

DW.COM