1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

اونچی ایڑی کے جوتے: پرکشش بنائیں اور بیمار بھی

بظاہر ’ہائی ہیلز‘ پہننے والی خواتین سمارٹ اور فیشن ایبل دکھائی دیتی ہیں لیکن اونچی ایڑی والے جوتوں کے مسلسل استعمال سے خواتین کو اعصابی مسائل کے علاوہ جوڑوں کے شدید درد کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

default

ایک تازہ تحقیق کے نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ جو خواتین مسلسل اونچی ہیلز والے جوتے پہنتی ہیں، وہ بعض اوقات پاؤں اور ٹخنوں کے جوڑوں کے شدید درد میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔ اونچی ہیلز سے پاؤں کے انگوٹھے پر مسلسل دباؤ رہتا ہے اور اسی باعث انگوٹھے کے ٹنڈن (Tendon)کے متاثر ہونے کے بھی قوی امکانات ہیں۔ انسانی بدن میں عضلات اور پٹھوں کا ہڈیوں کے ساتھ رابطہ نسوں کے ایک سخت گچھے ساتھ ہوتا ہے۔ نسوں کا یہ سخت گچھا ٹنڈن کہلاتا ہے۔

ہڈیوں اور جوڑوں کے ممتاز بھارتی ماہر اشیش جین کا خیال ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اونچی ہیلز والے جوتے پہننے والی خواتین زیادہ پروقار دکھائی دیتی ہیں، لیکن مسلسل ایسے جوتوں کے استعمال کے بعد ایسی خواتین کو ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ساتھ پاؤں میں پائے جانے والے چھوٹے چھوٹے جوڑوں میں بھی کئی طرح کے درد کا عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یوں پاؤں کی ہڈیاں ٹیڑھی بھی ہو سکتی ہیں۔

Junge Frau im Abendkleid

ماڈلنگ میں اونچی ہیلز اہم خیال کی جاتی ہیں

اسی طرح گھٹنے سے اوپر کے سامنے والے عضلات پر بھی مسلسل دباؤ رہنے سے ان میں ذیلی مسائل کا پیدا ہونا یقینی خیال کیا گیا ہے۔ ٹخنوں کے ساتھ گھٹنے کے جوڑ بھی کمزور ہونے لگتے ہیں اور اس وجہ سے ٹخنوں اور گھٹنوں کی حرکت کو کنٹرول کرنے والےٹنڈنز (Tendons) بھی کمزوری کا شکار ہو کر بے چین کر دینے والے درد کی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اشیش جین نے اپنی ریسرچ میں یہ واضح کیا ہے کہ دن کے وقت اور شام کو

BdT Stiletto Wettrennen in Sydney 2.9.2008

اونچی ہیلز کی ریس بھی یورپ میں منعقد کی جاتی ہے

ہائی ہیلز میں زیادہ وقت گزارنے والی خواتین کے پنڈلی کے اگلے عضلات بھی کھچاؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کھچاؤ کی وجہ سے ٹخنوں کے پچھلے ٹنڈنز (Tendons) اپنے نارمل سائز سے سکڑ جانے کی پوزیشن میں چلے جاتے ہیں اور اس باعث خواتین کو ایڑی کے شدید درد کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہڈیوں پر یہ دباؤ انجام کار نروس یا اعصابی معاملات تک پہنچ کر انسانی ذہن اور سارے بدن کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اشیش جین کا خیال ہے کہ اونچی ہیلز پہننے والی خواتین کے پاؤں کے انگوٹھے مسلسل دباؤ میں رہنے کے سبب ان گروئنگ (Ingrowing) ناخن کی شکایت کا سامنا کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات انگوٹھے کے ناخن اندر کی جانب خاصے بڑھ جاتے ہیں اور انتہائی شدید درد کا آخری علاج ایک ہلکا آپریشن ہوتا ہے۔
آج کل خواتین میں ’گلیڈی ایٹر ہیلز‘ کا استعمال عام ہے۔ اس کے علاوہ ’پیپ ٹو‘ بھی مستعمل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ’سٹیلیٹو ہیل‘ اور ’ویج ہیل‘ بھی اچھے ذوق اور فیشن کی علامت خیال کی جاتی ہیں۔ یہ اپنی اونچائی میں عموماً ڈھائی سے ساڑھے تین انچ تک ہوتی ہیں لیکن فیشن ایبل خواتین زیادہ تر چار سے چھ انچ کی اونچائی والی ہیلز پہننا پسند کرتی ہیں۔

اس لئے ماہرین یہ تجویز کرتے ہیں کہ خواتین اپنے استعمال میں ’فلیٹ‘ جوتوں کو بھی رکھیں۔ ہڈیوں اور جوڑوں کے ماہرین نے آئیڈیل ہیل کی اونچائی صرف ایک انچ قرار دی ہے۔ ایک انچ ہیل کا پاؤں کے انگوٹھے پر دباؤ 20 فیصد ہوتا ہے۔ دو انچ ہیل کا دباؤ بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ جاتا ہے اور تین انچ کی ہیل کا انگوٹھے پر دباؤ 75 فیصد ہوتا ہے، جو کسی بڑی بیماری کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM