1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

اونچی ایڑی : فیشن ضروری یا صحت

اونچی ایڑی والے جوتے مردوں اور خواتین دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ گرچہ جدید دور میں خواتین تو کیا مرد بھی اونچی ایڑی والے جوتے پہن کر خود کو زیادہ پُر کشش محسوس کرتے ہیں۔

default

جرمن شہر ڈوسلڈورف میں جوتوں کا فیشن شُو

کچھ کا خیال ہے کہ ہائی ہیل والے جوتے پہننے سے اُن کی شخصیت میں زیادہ جنسی کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی ایڑی والے جوتوں کے مسلسل استعمال سے انسانی جسم کی اندرونی ساخت میں نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ جوڑوں اور ہڈیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی ایڑی والے جوتوں کے مسلسل استعمال سے پنڈلیوں کے پٹھوں کے فائبرز سُکڑ کر چھوٹے ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں چلنے پھرنے کی صلاحیت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پنڈلیوں کے پٹھوں کے فائبرز کو تقویت پہنچانے کے لیے وہ نس موٹی ہونا یا پھولنا شروع ہو جاتی ہے جو ایڑی کی ہڈی اور پنڈلی کے پٹھوں کو ملاتی ہے۔ اس وجہ سے اونچی ایڑی والے جوتے استعمال کرنے والی اکثر خواتین جب بغیر ایڑی والے جوتے پہنتی ہیں تو اُنہیں اپنے پیروں اور ٹانگوں میں سخت درد محسوس ہوتا ہے۔ ان منفی اثرات کے باوجود جو لوگ ایڑی والے جوتے پہننے سے باز نہیں آتے انہیں چاہیے کہ وہ ٹانگوں کے درد کی صورت میں رات کو اسٹریچنگ ایکسرسائز یا ٹانگوں کو کھینچنے کی ورزش کیا کریں۔

Mode Schuhe Overknees

بہت سے مردوں کا خیال ہے کہ ہائی ہیل والے جوتوں میں خواتین جنسی طور پر زیادہ پُر کشش نظر آتی ہیں

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اونچی ایڑی والے جوتوں کے منفی اثرات محض پنڈلیوں کے پٹھوں ہی پر مرتب نہیں ہوتے بلکہ وہ پاؤں کی ہڈیوں میں بھی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ اونچی ایڑی کی وجہ سے پاؤں کے اگلے حصے پر غیر معمولی دباؤ پڑتا رہتا ہے جو جلد ہی پیر کے پنجوں کو بُری طرح دباتا ہے۔ ان تکالیف کے پیش نظر ماہرین کا مشورہ ہے کہ اونچی ایڑی والے جوتوں کو روزمرہ استعمال کے جوتوں کی جگہ استعمال کرنے سے سخت پرہیز کیا جائے اور ایڑی والے جوتوں کو کبھی کبھار کسی خاص موقع پر پہننا چاہیے۔

ہائی ہیل والے جوتوں کے بارے میں کروائے گئے ایک آن لائن سروے کے نتائج کے مطابق 94 فیصد مردوں کا کہنا ہے کہ اونچی ایڑی والے جوتے پہننے والی خواتین کی جنسی کشش بظاہر زیادہ ہوجاتی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس