1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اولمپکس مقابلے، پاکستانی شوٹرز فوج کے شکر گزار

برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں شمولیت کرنے والا ایک مختصر پاکستانی دستہ اپنی زیادہ تر تربیت کے لیے پاکستانی فوج کا شکر گزار ہے۔

Pakistan Ghulam Minhal Sohail

منہال خواتین کے دس میٹر ائیر رائفل ایونٹ میں حصہ لیں گی

انتیس سالہ غلام مصطفی بشیر جو بحریہ میرین ہیں اور اکیس سالہ منہال سہیل جو یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، دونوں ہی فائرنگ کے مختلف مقابلوں میں شرکت کریں گے۔ بشیر مردوں کے ’ ریپڈ فائر پسٹل ایونٹ ‘ میں اور منہال خواتین کے دس میٹر ائیر رائفل ایونٹ میں حصہ لیں گی۔ دونوں ماہر نشانے بازوں کی تربیت پاک بحریہ نے کی ہے اور منہال بحریہ کے ایک افسر کی صاحبزادی ہیں۔ منہال نے اپنے آبائی شہر کراچی میں شوٹنگ کی تربیت کا آغاز ایک نیوی سمر کیمپ سے کیا اور اس کے بعد سے ایشیا کی سطح پر متعدد چیمپین شپ میں حصہ لے چکی ہیں۔ منہال نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا،’’ اولمپکس مقابلوں میں حصہ لینا وہ نادر موقع ہے جو زندگی میں ایک بار ہی میسر آتا ہے۔‘‘ دوسرے نشانہ باز غلام مصطفی بشیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسابقتی نشانہ بازی سن 2010 میں پاکستان بحریہ کی ٹیم میں شمولیت کے بعد شروع کی۔

بشیر نے ریو روانگی سے قبل شوٹنگ کی مشق کے دوران روئٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا،’’ پاکستان نیوی ملک میں شوٹنگ کی تربیت کے فروغ کے لیے قابل قدر کوششیں کر رہی ہے۔ نیوی برقی اہداف متعارف کرانے والا پہلا ادارہ تھا اور اس کے بعد سے ہم نے اس میدان میں کافی ترقی کی ہے۔‘‘

Pakistan Ghulam Mustafa Bashir

انتیس سالہ غلام مصطفی بشیر بحریہ میرین ہیں

کھیلوں سے متعلق پاکستانی حکومتی اور نجی اداروں کی ساخت کمزور ہونے کے باعث کھیلوں کی فوجی تربیت کا ہونا ضروری ہو گیا ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کے زوال نے دنیا کے بہترین ہاکی اور اسکواش کھلاڑی پیدا کرنے والے اس جنوبی ایشیائی ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اولمپکس کے لیے اس کے کسی بھی ایتھلیٹ نے کوالیفائی نہیں کیا ہے۔ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر عارف حسن کے مطابق ریو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے تمام شرکا کو ’وائلڈ کارڈ انٹری‘ دی گئی ہے اور ان کے لیے میڈلز جیتنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔

DW.COM