1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اولمپکس سے قبل برازیل کا سیاسی بحران، توقعات مبہم

سن 2016ء میں برازیلی شہر ریو ڈی جنیرو میں اولمپک مقابلوں کا انعقاد ہو رہا ہے، تاہم برازیل میں جاری سیاسی بحران، بدعنوانی اسکینڈل اور اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے ان مقابلوں کی کامیابی پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

جب ریو ڈی جنیرو شہر نے سن 2016 کے گرمائی اولمپکس کی بولی اپنے نام کی تھی، تو اس وقت کے برازیلی صدر لولا ڈی سلوا نے کہا تھا کہ اب ان کا ملک بین الاقوامی سطح پر اپنا وسیع کردار ادا کرنے کے سلسلے کا آغاز کر رہا ہے۔ اس وقت برازیل تیزی سے اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن تھا اور اسے مستقبل کا ایک اہم اقتصادی مرکز سمجھا جا رہا تھا، مگر اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔

اولمپکس کے آغاز میں اب صرف 100 روز باقی ہیں، مگر بین الاقوامی سطح پر برازیل کے حوالے سے خبریں ان مقابلوں سے متعلق نہیں بلکہ صدر دلما روسیف کے مواخذے، سیاسی بحران اور کرپشن کے الزامات کے حوالے سے آ رہی ہیں۔ ان حالات میں جنوبی امریکی براعظم میں منعقد ہونے والے ان پہلے اولمپک مقابلوں کی کامیابی گہنا گئی ہے۔

Brasilien Rio de Janeiro Luftaufnahme

ریو ڈی جنیرو عالمی مقابلوں کی میزبانی کرنے جا رہا ہے

صدر روسیف کے مواخذے کی تحریک اور کرپشن کے الزامات کے طوفان کی وجہ سے ان بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کا معاملہ خاصا سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور خدشات ہیں کہ یہ مقابلے ماضی کی طرح بھرپور اور شان دار ہو پائیں گے۔

ان مقابلوں کے حوالے سے معروف کتاب، ’پاورگیمز، پولیٹیکل ہسٹری آف دی اولمپکس‘ یا ’طاقت کے کھیل، اولمپکس کی سیاسی تاریخ‘ کے مصنف جولیس بوئےکوف کا کہنا ہے، ’’سیاسی طوفان اور اس پر اقتصادی بدحالی کا مطلب ہے کہ اولمپکس پر توجہ نہیں دی جا سکتی۔ اس کا نتیجہ ریو 2016 اولپمکس سے توجہ ہٹ جانے کی صورت میں نکلا ہے۔‘‘

اویگون میں قائم امریکی یونیورسٹی کے اس لیکچرر کے مطابق، ’’لوگ کی نظر میں ریو 2016 کی بھرپور کامیابی کی توقعات انتہائی کم ہیں۔‘‘

’بچتی اصلاحات کے کھیل‘

برازیل کو درپیش شدید مالی مشکلات کی وجہ سے ریو2016کو بچتی کھیلوں کے نام سے بھی پکارا جا رہا ہے، کیوں کہ حکومت اس اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے بچتی اصلاحات میں مصروف ہے۔

انٹرنیشل اولمپک کمیٹی (IOC) کے رابطہ کمیشن سربراہ نوال المتوکل کے مطابق، ’برازیل کی اقتصادی اور سیاسی فضا انتہائی پیچیدہ ہے۔‘‘

منتظمین کے مطابق ان عالمی مقابلوں کی تیاریوں کے لیے درکار 7.4 ارب برازیلیئن ریال کے بجٹ کے حصول میں شروع دن ہی سے سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ مگر ایک ایسے موقع پر جب برازیل گزشتہ تین دہائیوں کی سخت ترین کساد بازاری کا شکار ہے اور اس کی اقتصادیات گزشتہ برس 3.8 فیصد سکڑی ہیں، منتظمین کو ان مقابلوں کے لیے درکار بجٹ میں سے 850 ملین کم کرنا پڑے۔

حکام کے مطابق حکومت لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ان مقابلوں کے انعقاد کے لیے بلینک چیک نہیں دیا جا سکتا اور یہ کہ حکومت اس سلسلے میں یہ بات یقینی بنا رہی ہے کہ صرف اسی صورت میں سرمایہ خرچ کیا جائے، جب واقعی ضرورت ہو۔