1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوسلو میں سری لنکا کے سفارت خانے پر حملہ ، ناروے کی معذرت

ناروے کے دارلحکومت سری لنکا کے سفارت خانے پر تامل مظاہرین کی طرف سے دھاوں بولنے کے بعد ناروے نے سری لنکا سے معذرت کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ اوسلو میں کولمبو سفارت خانے میں سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کئے جائیں گے۔

default

تامل مظاہرین کئی یورپی ممالک میں سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف جاری حکومتی عسکری کارروائی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

اتوار کے دن ناروے کی وزارت خارجہ نے اوسلومیں سری لنکا کے سفارت خانے پر تامل باغیوں کے حملے کے بعدسیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اوسلو میں سری لنکا کے سفارت خانے میں تحریری معذرت نامہ بھیجوا دیا ہے۔

اس سے قبل سری لنکا کی حکومت نے باضابطہ طور پر ناروے کی حکومت سے احتجاج کیا اورکہا کہ اوسلو میں اس کے سفارت خانے کے عملے کوحکومت تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔

اوسلو میں سری لنکن سفارت خانے پر سو کے قریب تامل مظاہرین نے حملہ کیا اور کئی مظاہرین سفارت خانے کےاندر داخل ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ اوسلو کے پولیس سربراہ نے کہا کہ یہ مظاہرین تقریبا پانچ منٹ کے لئے سفارت خانے کے اندر رہے اور بعدازاں واپس چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ مطاہرین نے اس دوران سفارت خانے کی کھڑکیاں توڑ دیں اور دیگر سامان کو بھی نقصان پہنچایا۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

Sri Lanka Bombenanschlag Bauminister DM Dassanayake getötet Krankenhaus

تامل مظاہرین کئی یورپی ممالک میں سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف جاری حکومتی عسکری کارروائی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سری لنکا کی حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناروے حکومت اس بات سے واقف تھی کہ سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے سفارت خانے پر حملہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ناروے نے حکومت نے سری لنکا حکام اور تامل باغیوں کے مابین سن 2002 میں فائر بندی کروائی تھی جو بعد ازاں سخت موقف کے حامی صدر راجا پاکشے کے اقتدار میں آنے کے بعد سن 2005 میں غیر موثر ہو گئی تھی۔

تامل مظاہرین کئی دنوں سے سری لنکا میں تامل باغیوں کے خلاف جاری حکومتی عسکری کارروائی کے خلاف کئی یورپی ممالک میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سری لنکا حکومت تامل باغیوں کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ کرے۔

دوسری طرف سری لنکا کے صدر نے فوج کو حکم دیا ہے کہ نئے سال کے آغاز کے سلسلے میں دی جانے والی چھٹیوں کے دو دنوں کے دوران تامل باغیوں پر حملہ نہ کیا جائےتاکہ عام شہری اس علاقے سے بحفاظت نکل سکیں جہاں باغیوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ سری لنکا میں نئے سال کے آغاز پر ہونے والی عام تعطیل تیرہ اور چودہ اپریل کو دی جا رہی ہے۔

Mahinda Rajapakse Präsident Sri Lanka

سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکشے نے ناروے میں سری لنکا کے سفارت خانے پر تامل مظاہرین کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے صدر مہندا راجا پاکشےکے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تامل باغی عام شہریوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت دے دیں۔ دریں اثناعینی شاہدین نے بتایا ہے کہ علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز اُن افراد کو ہلاک کر رہے ہیں جو وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تامل باغیوں کے قبضے میں سترہ مربع کلومیٹر کے علاقے میں تقریبا ایک لاکھ شہری پھنسے ہوئے ہیں۔علیحدگی پسندوں نے ہتھیار پھینکنےسے انکار کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ سری لنکامیں سن 1983 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں کم ازکم ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔