1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

...اور عمر کی ڈور کٹ گئی

چاروں طرف لوگ جمع تھے اور درمیان میں بچے کی لاش پڑی تھی ۔ اس کی ماں دہائی دے رہی تھی: ’’ہائے میرے بچے کو اٹھا دو،چاہے میری شہ رگ کاٹ لو، اٹھ جا میرے لال، میں تجھے گاڑیاں لے کر دوں گی ۔‘‘

default

پاکستانی روزنامے ’’ڈیلی ایکسپریس‘‘ میں شائع ہونے والی تصویر میں تین سالہ عمیر کی لاش پر بین کرتی ہوئی اُس کی ماں

یہ واقعہ لاہور کا ہے۔ دن ، چوبیس جولائی۔ ملت پارک کا رہائشی قاسم اپنی بھابی اور بھتیجے کے ساتھ گجر پورہ جانے کا ارادہ کرتا ہے ۔ تین سالہ عمیر موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بیٹھ جاتا ہے ۔ وہ چاہ میراں روڈ پر دھوبی گھاٹ کے قریب پہنچتے ہیں کہ اچانک ایک کٹی پتنگ کی ڈور عمیر کی گردن پر پھر جاتی ہے اور شہ رگ کٹ جاتی ہے۔

عمیر کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اس واقعے کے بعد چند مشتعل افراد احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں، لاہور کی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے، ایس ایچ او گجرپورہ کو معطل کیا جاتا ہے، چار لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور وزیر اعلٰی پنجاب لاہور پولیس کو پتنگ اڑانے والوں اور کیمیکل ڈور استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اور یوں یہ کہانی بھی دوسری کہانیوں کی طرح ختم ہوجاتی ہے۔

Drachenfestival in Lahore Pakistan

لاہور میں پتنگ اڑانے کا بڑا رواج ہے جبکہ کچھ اسلامی علماء کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی غیر اسلامی ہے

پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کاکوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس طرح کے درجنوں واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں اور حکومت آج تک اس مسئلےکا کوئی موثر حل تلاش نہیں کر سکی۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستانی انتظامیہ ہمیشہ اس وقت ہی حرکت میں کیوں آتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے، شہ رگیں کٹ چکی ہوتی ہیں اور عمیر جیسے بچے اگلے جہان پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اور کیا پتنگ بازی جیسے تہوار اور روایات زیادہ اہم ہیں یا انسان کی زندگی؟

پتنگ بازی بہت سے بچوں کو اپنے اپنے ماں باپ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا کر چکی ہے۔ اس کے باوجود لوگ پتنگ بازی سے باز نہیں آئے۔ اِس ’خونریز‘ کھیل کو جاری رکھنے کے حق میں وقتاً فوقتاً دلائل بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ کبھی اِس صنعت سے وابستہ افراد کے روزگار کا ذکر کیا جاتا ہے تو کبھی ثقافت اور روایات کے تحفظ کی بات کی جاتی ہے لیکن اس کے منفی اثرات پر قابو پانے کے حوالے سے بہت کم کہا اور کیا جاتا ہے۔