1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

اور اب سی آئی اے کی ویب سائٹ بھی ہیک

امریکی انٹیلیجنس ادارے سی آئی اے کی ویب سائٹ بدھ کی شام عوام کے لیے دستیاب نہیں تھی۔ للز سکیورٹی نامی ہیکنگ گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی وجہ ان کا ہیکنگ حملہ تھا۔

default

للز سکیورٹی نامی یہ ہیکنگ گروپ حالیہ دنوں میں کی جانے والی کئی دیگر ہیکنگ کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔ ان میں امریکی سینیٹ، جاپانی انٹرٹینمنٹ کمپنی سونی کارپوریشن، ذرائع ابلاغ کا معروف گروپ نیوز کارپوریشن اور امریکہ کے پبلک براڈکاسٹنگ اور ٹیلی وژن نیٹ ورک کی ویب سائٹس شامل ہیں۔

ابتداء میں نیویارک اور سان فرانسسکو کے صارفین سی آئی اے کی ویب سائٹ تک نہیں پہنچ پا رہے تھے تاہم بدھ کی شام دنیا کے دیگر حصوں سے بھی یہ ویب سائٹ قابل رسائی نہیں تھی۔ سی آئی کے ایک ترجمان کے مطابق: ’’ ہم اس معاملے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔‘‘

للز سکیورٹی نامی گروپ متعدد ویب سائٹس پر حملوں کے دوران اپنی موجودگی کا یقین مختلف طریقوں سے دلاتا ہے، مثلاﹰ کئی مرتبہ ان ویب سائٹس کی شکل وصورت بگاڑ دی گئی، کبھی ان ویب سائٹ پر اپنے ذاتی پیغامات جاری کیے گئے تو کبھی ان کے ایڈمنسٹریٹر یا ان سائٹس کے نیٹ ورک وغیرہ کے بارے میں خفیہ معلومات آشکار کر دی گئیں۔

جاپانی انٹرٹینمنٹ کمپنی سونی کارپوریشن بھی للز سکیورٹی گروپ کی طرف سے ہیکنگ کا شکار ہوچکی ہے

جاپانی انٹرٹینمنٹ کمپنی سونی کارپوریشن بھی للز سکیورٹی گروپ کی طرف سے ہیکنگ کا شکار ہوچکی ہے

سکیورٹی سے متعلق تجزیہ کار اس طرح کے سائبر حملوں کو کم تر کرکے بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد محض لوگوں کی توجہ حاصل کرنا اور اپنی اہمیت جتانا ہے۔ سائبر حملوں سے متعلق ایک کتاب کے مصنف اور ماہر جیفری کار Jeffrey Carr کے بقول سی آئی اے کے معاملے میں ہیکرز اس کی پبلک ویب سائٹ میں گھُس کر اس انٹیلیجنس ایجسنی کی خفیہ معلومات تک دسترس حاصل نہیں کر سکتے۔ جیفری کار کے مطابق :’’ وہ محض لوگوں پر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دیکھو ہم کتنے ماہر ہیں۔ ان لوگوں کا مقصد ایسے اداروں کو شرمندگی سے دو چار کرنا ہے کہ دیکھو، تمھاری سکیورٹی کتنی بے کار ہے۔‘‘

للز سکیورٹی کی طرف سے جون کے دوسرے ویک اینڈ پر امریکی سینیٹ کی ویب سائٹ ہیک کر لی گئی تھی۔ امریکی قانون ساز ادارے کی اس ویب سائٹ سے چوری شدہ ڈیٹا کو دیگر پبلک ویب سائٹس پر شائع کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس