1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اور اب بھارتی ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی عدالت میں

تین برس قبل بھارت میں جینرک ادویات سازی کی صنعت میں خطرناک چلن کی نشاندہی کرنے والے دنیش ٹھاکر اب بھارتی ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی کو عدالت لے جا رہے ہیں۔

دنیش ٹھاکر کا الزام ہے کہ ادویات کے معیار کے معاملات دیکھنے والی ملکی اتھارٹی 15 بلین ڈالرز کی بھارتی انڈسٹری میں ڈرگ سیفٹی کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

2013ء میں دنیش ٹھاکر نے ثابت کیا تھا کہ کس طرح اُس وقت بھارت کی سب سے بڑی دوا ساز کمپنی رین بکسی لیبارٹریز ، ادویات کی تیاری کے دوران سیفٹی اور کوالٹی کے حوالے سے جانچ پڑتال میں نہ صرف ناکام رہی تھی بلکہ اس نے معیار پر نظر رکھنے والے ریگولیٹر ادارے کو غلط معلومات بھی مہیا کی تھیں۔

رین بکسی کمپنی کے ہی سابق ملازم دنیش ٹھاکر نے اندرونی معلومات افشا کرنے پر نہ صرف عالمی سطح پر شہرت حاصل کی تھی بلکہ اسے امریکا کی طرف سے 48 ملین یورو کا انعام بھی دیا گیا تھا۔ امریکا میں خوراک و ادویات کے نگران قومی ادارے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ نے ٹھاکر کی مہیا کردہ معلومات کے تناظر میں رین بکسی پر 500 ملین ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

ٹھاکر کا نیا مقدمہ ’پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن‘ یا مفادِ عامہ کی مد میں دائر کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس مقدمے کی ابتدائی سماعت جمعہ 11 مارچ کو ہونا ہے۔ اس مقدمے میں حکومت کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کوالٹی کنٹرول کے حوالے سے قوانین پر مناسب عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کس طرح بھارت میں نقصان دہ ادویات مناسب اجازت حاصل کیے بغیر ہی فروخت کی جا رہی ہیں۔

اس مقدمے میں ملکی وزارت صحت اور ’ڈرگ کنسلٹیٹیو کمیٹی اینڈ دی سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن‘ کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس مقدمے کے تحت ان اداروں پر کس طرح کا جرمانہ تو عائد نہیں کیا جائے گا مگر انہیں ادویات کی تیاری کے لیے دیے گئے غلط اجازت ناموں پر نظر ثانی کے لیے ایک فریم ورک کی تیاری کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔

امریکا کی طرف سے رین بکسی کمپنی پر 2013ء میں 500 ملین ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا تھا

امریکا کی طرف سے رین بکسی کمپنی پر 2013ء میں 500 ملین ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا تھا

وِسل بلوور بننے یا خفیہ معلومات عام کرنے سے قبل دنیش ٹھاکر، رین بکسی کمپنی میں 2003ء سے 2005ء تک ملازم رہے تھے۔ اس وقت وہ فلوریڈا میں قائم MedAssure Global Compliance کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ یہ کمپنی دوا ساز کمپنیوں کو ادویات کی تیاری کے دوران کوالٹی اور سیفٹی کو یقینی بنانے کے مشورے دیتی ہے۔

امریکا کی طرف سے رین بکسی کمپنی پر 2013ء میں جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد ٹھاکر کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے اُن سے اس بارے میں کسی قسم کی معلومات جاننے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ جب انہوں نے 2014ء میں خود بھارتی حکام سے رابطہ کیا تو بھی انہوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔

رین بکسی معاملے کے بعد امریکی FDA نے بھارت میں قائم ایسے فارماسیوٹیکل پلانٹس کی جانچ پڑتال میں اضافہ کر دیا تھا جو دیگر ممالک کو بھیجنے کے لیے ادویات تیار کرتے تھے۔ اس وقت 44 بھارتی پلانٹس کی تیار کردہ ادویات ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی عائد ہے لیکن اُن کی تیارکردہ ادویات بھارت میں فروخت ہو رہی ہیں۔