1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورکزئی میں جھڑپیں، 25 شدت پسند ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جمعے کو ہونے والی لڑائی میں پچیس شدت پسند اور ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔

default

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ لڑائی جمعے کو اورکزئی کے علاقے گلجو میں ہوئی۔ اس خبر رساں ادارے نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد اکیس بتائی ہے جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ہی ہلاکتوں کی تعداد پچیس بتائی ہے۔

پیراملٹری فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے پر ڈی پی اے کو بتایا فورسز اس علاقے سے گزر رہی تھیں، جب شدت پسندوں نے اچانک حملہ کر دیا، جس کے بعد شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

اس اہلکار نے کہا: ''ہمارے فوجیوں نے جوابی حملہ کیا اور اکیس حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ لیکن اس دوران ہمارا ایک فوجی بھی ہلاک ہوا جبکہ بائیس فوجی زخمی ہوئے۔''

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سکیورٹی فورسز پر یہ حملہ اورکزئی کے علاقے ماموزئی میں ہوا، جو حکیم اللہ محسود کا گڑھ ہے۔

ایک پیراملٹری اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر اے ایف پی کو بتایا: ''تقریباﹰ پچاس مقامی شدت پسند سڑک کے دونوں کناروں پر گھات لگائے موجود تھے، انہوں نے قافلے (سکیورٹی فورسز) پر فائر کھول دیا، جس سے ایک فوجی ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے۔''

Superteaser NO FLASH Pakistan Terror Jalaluddin Hakkani Grenzgebiet Afghanistan

تحریک طالبان قبائلی علاقے میں درجن بھر سے زائد شدت پسند گروپوں کی مرکزی تنظیم ہے

انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب ہوا اور جھڑپیں چالیس منٹ تک جاری رہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ''فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل تھی اور انہوں نے جوابی حملے میں پچیس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔''

اے ایف پی کے مطابق اورکزئی میں ایڈمنسٹریشن اہلکار شیر بہادر خان نے بھی ہلاکتوں کی یہی تعداد بتائی ہے۔

اورکزئی سات قبائلی اضلاع میں سے ایک ہے، جہاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ شدت پسند حکومتی فورسز  کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی افغانستان کے ساتھ ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں موجود درجن بھر سے زائد شدت پسند گروپوں کی مرکزی تنظیم ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس