1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورکزئی میں تین فوجی، 33 طالبان ہلاک

اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے حملے میں تین فوجی ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق فوج کے جوابی حملے میں تقریبا تین درجن شدت پسند بھی مارے گئے۔ اورکزئی میں فوج رواں برس مارچ سے انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

default

Taliban Führer Hakimullah Mehsud

جنوبی وزیرستان تحریک طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے

خبررساں ادارے AFP کے مطابق ایک سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے میں فوج کی نقل و حرکت روکنے کے لئے تقریبا 50 طالبان نے بدھ کو ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران تین فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ فوج نے جوابی کارروائی میں 33 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی اہلکار نے کہا، ’لڑائی کے مقام سے 17 نعشیں ملی ہیں۔‘

نیم فوجی فرنٹیئر کور کے ترجمان نے بھی اس جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے جانی نقصان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں نے سخت مزاحمت کے بعد اورکزئی میں بعض اہم پہاڑیوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ ہلاکتوں کے ان اعدادوشمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں، جس کی وجہ اس علاقے تک فلاحی کارکنوں اور صحافیوں کی محدود رسائی ہے۔

پاکستانی فورسز نے اورکزئی میں طالبان کے خلاف رواں برس مارچ میں نیا محاذ کھولا تھا، جس کا مقصد تحریک طالبان کے گڑھ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ برس کے آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے شدت پسندوں کا صفایا ہے۔

Verdächtiges Fahrzeug am Time Square in New York

امریکہ نے ٹائمز اسکوائر کے ناکام بم حملے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان پر ڈالی

خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کےمختلف شہروں میں بم دھماکوں میں ملوث بڑی فورس ہے، جن میں تین سال کے دوران ساڑھے تین ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ گروہ عالمی توجہ کا مرکز اس وقت بنا، جب امریکہ نے نیویارک میں یکم مئی کے ناکام بم حملے کی ذمہ داری اس پر ڈالی۔

پاکستان کا قبائلی علاقہ حکومت کے براہ راست کنڑول سے باہر ہے، جسے واشنگٹن انتظامیہ القاعدہ کا مرکز اور افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث شدت پسندوں کا گڑھ قرار دیتی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ماہ اس علاقے میں بڑے فوجی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ایک فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اورکزئی کا زیریں حصہ حکومت کے زیرانتطام ہے جبکہ اس کے بالائی اور وسطی علاقوں میں فوج شدت پسندوں کے خلاف سرگرم ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM