1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورکزئی میں تازہ کارروائی، 15 شدت پسند ہلاک

پاکستانی فوج کی ایک تازہ کارروائی میں 15 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوج نے اتوار کو افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے اورکزئی میں فضائی کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

default

اورکزئی ایجنسی میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدے دار سمیع اللہ خان نے بتایا ہے کہ اتوار کی کارروائیاں اورکزئی کے علاقوں دابوری، گوجر اور کامیر میلہ میں کی گئیں۔

یہ کارروائی کُرم ایجنسی سے ہفتہ کو شدت پسندوں کی جانب سے کم از کم 50 افراد کو اغوا کئے جانے کے بعد کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ مغویوں کی بازیابی عمل میں آ چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسند ان ٹھکانوں کو سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ سمیع اللہ نے بتایا کہ ان ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

جرمن خبررساں ادارے ’ڈی پی اے‘ کے مطابق فرنٹیئر کور کے ترجمان میجر فضل الرحمان نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دس سے 15شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کی درست تعداد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Indischer Soldat

پاکستانی فوج مارچ سے اورکزئی میں آپریشن کر رہی ہے

پاکستانی فوج نے اورکزئی کے سات اضلاع میں آپریشن رواں برس مارچ کے وسط میں شروع کیا، جو قبل ازیں جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائیوں کی ہی ایک کڑی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیرستان کے آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے متعدد شدت پسند ان علاقوں میں جا چھپے ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں اب تک کی کارروائیوں میں 600 سے زائد شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں تک صحافیوں اور امدادی اداروں کی محدود رسائی کے باعث ان اعدادوشمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

اورکزئی میں آپریشن کے باعث گزشتہ دو ماہ کے دوران ہزاروں شہری اس علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اس آپریشن کا مقصد پاکستان کی جانب سے اپنے شمال مغربی علاقوں سے عسکریت پسندوں کا صفایا کرنا بتایا جاتا ہے۔ امریکہ ان علاقوں کو دہشت پسندوں کا گڑھ تصور کرتا ہے، جہاں سے سرحد پار افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے ڈیڑھ لاکھ فوجی تعینات ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM