1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورکزئی ایجنسی میں نئی جھڑپ، چالیس طالبان ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ملکی فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان ایک تازہ جھڑپ میں 40 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس بڑی جھڑپ میں چار پاکستانی فوجی بھی جا ں بحق ہو گئے۔

default

قبائلی علاقوں میں پاکستانی دستوں کی کارروائیاں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں

پشاور میں صوبائی حکومت کے ذرائع اور اورکزئی ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار عصمت اللہ خان کے مطابق سرکاری دستوں اور طالبان باغیوں کے مابین لڑائی کا یہ تازہ واقعہ پیر کو اس وقت پیش آیا جب انتہا پسندوں نے اس قبائلی علاقے میں شیرین درہ کے مقام پر ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔

اس پر ملکی فوج کے دستوں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے حملے کا بھرپور جواب دیا گیا، اور دو گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں کم از کم چالیس شدت پسند ہلاک کر دیے گئے۔ مختلف خبرایجنسیوں نے بتایا ہے کہ اس لڑائی کے دوران فریقین نے بھاری ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔

Pakistan eine von Taliban zerstörte Schule in Bara Khyber

خیبر ایجنسی میں طالبان کے ہاتھوں تباہ ہونے والا ایک اسکول، فائل فوٹو

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس جوابی کارروائی کے دوران ملکی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی مدد سے عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فوج نے اورکزئی ایجنسی میں اسی سال مارچ کے اوائل میں عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح آپریشن کا آغاز کیا تھا، جب جنوبی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن کے باعث وہاں سے فرار ہونے والے عسکریت پسندوں نے اورکزئی ایجنسی میں اپنے ٹھکانے قائم کر لئے تھے۔

عسکری ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اوکرزئی کے علاقے میں ملکی فوج کی مسلح کارروائیوں میں 350 سے زائد عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے اکثریت وسطی ایشیائی ریاستوں کے ایسے جنگجو باشندوں کی تھی، جن کا تعلق القاعدہ سے تھا۔

اوکرزئی ایجنسی میں اس تازہ ترین لیکن بہت ‌خونریز جھڑپ سے قبل ہفتے کی رات بھی پاکستانی جنگی طیاروں نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران اورکزئی اور خیبر کے قبائلی علاقوں میں اہم اہداف پر بمباری کی تھی۔ ان حملوں میں بہت سے انتہا پسندوں سمیت 136 افراد ہلاگ ہو گئے تھے۔ تاہم ہلاک ہونے والے صرف عسکریت پسند ہی نہیں تھے، بلکہ ان میں مختلف ذرائع کے مطابق 70 کے قریب عام شہری بھی تھے۔ سرکاری ذرائع نے اتنی زیادہ تعداد میں عام شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔

رپورٹ: بخت زمان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM