1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اورکزئی ایجنسی میں طالبان نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیا

پاکستانی قبائلی علاقے میں طالبان عسکریت پسندوں نے چوری کے الزام میں ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس سے قبل طالبان کئی مرتبہ یہ باورکروا چکے ہیں کہ انہیں شرعی سزائیں دینے سےکوئی نہیں روک سکتا۔

default

کچھ علاقوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی خود ساختہ عدالتیں قائم ہیں

طالبان کے جانب سے ہاتھ کاٹےجانے کا یہ واقعہ اورکزئی ایجنسی میں پیش آیا۔ طالبان کی ایک خود ساختہ عدالت نے31 سالہ عبدالخالق کوچوری کے الزام میں یہ سزا سنائی تھی۔ عدالت کا موقف تھا کہ ملزم پرایک دکان سے سامان چرانے کا الزام ثابت ہوگیا ہے۔ ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ طالبان نے عبدالخالق کو دکان دار کے شکایت پرگرفتارکیا گیا تھا۔

ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ عبدالخالق کے سیدھے ہاتھ کو لکڑی کے ایک تختے پر رکھ کر، تیز دھار والے ایک چھرے سے اسے کلائی تک کاٹ دیا۔ بعد ازاں اسے ڈسپنسری لے جا کر مرہم پٹی کروائی گئی۔ ماموزئی نامی گاؤں کا باسی عبدالخالق اپنی بیوی اور دوبیٹوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔

Pakistan Taliban in Bara töten zwei Kriminelle

قبائلی اور شمالی علاقہ جات میں طالبان کی جانب سے سزائیں دینے کا سلسلہ نیا نہیں ہے

قبائلی اور شمالی علاقہ جات میں طالبان کی جانب سے سزائیں دینے کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ کچھ علاقوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی اپنی عدالتیں قائم ہیں۔ کہیں لوگوں کو داڑھی نہ رکھنے پر پیٹا گیا توکبھی چوری یا بدکاری کے الزام میں کوڑے مارے گئے۔ کہیں میوزک اسٹورز کو تباہ کیا گیا تو کبھی کہیں نظام عدل کے نام پر لوگوں کو معمولی سی غلطی پرسخت سزائیں دی گئیں۔

کچھ واقعات کی تو ویڈیوز بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ تاہم ان میں کئی واقعات ایسے ہیں، جن کی طالبان کی جانب سے تردید بھی کی جاتی رہی ہے۔ بہرحال حالیہ تازہ واقعے کے بعد سے طالبان کی جانب سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔ امریکہ، مغربی ممالک اور پاکستان کے اعتدال پسند حلقے ہمیشہ سے ہی طالبان کے اس طریقہ کار پرسخت تنقید کرتے آئے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح طالبان نےافغان سرحد سے متصل نیم خود مختار علاقےاورکرزئی ایجنسی میں عبدالخالق کی سزا پر عمل درآمد سے قبل مساجد سے اعلان کرتے ہوئے مقامی آبادی کو اسے دیکھنے کی دعوت دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں ایک بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس