1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورکزئی ایجنسی میں آپریشن ’اگلے ہفتے‘ سے

پاکستان اگلے ہفتے سے قبائلی علاقے اورکزئی میں عسکریت پسندوں کے خلاف ممکنہ آپریشن کے آغاز کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اس سے قبل فوج نے قبائلی علاقے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

default

پاکستانی فوج پہلے ہی کئی علاقوں میں آپریشن مکمل کرنے کا دعویٰ کرچکی ہے

پاکستان ممکنہ طور پر اگلے ہفتے سے قبائلی علاقے اورکزئی میں طالبان جنگجوؤں اور القاعدہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ یہ بات پاکستان کے ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار نے ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے کو بتائی۔ اورکزئی ایجنسی پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کی جانب سے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی اور خودکش بمباروں کی تیاری کے لئے مشہور ہے۔ خدشات ہیں کہ اس علاقے میں کم از کم ایک ہزار طالبان عسکریت پسند موجود ہیں۔ جرمن پریس ایجنسی ڈی پی اے سے بات چیت میں فرنٹیئر کور کے اس اہلکار نے بتایا کہ باجوڑ میں آپریشن کی تکمیل کے بعد اب فوج کی توجہ اورکزئی ایجنسی کی جانب ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج نے باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف رواں برس جنوری میں شروع کئے گئے آپریشن کی تکیمل کا اعلان کیا اور صحافیوں کی ایک ٹیم کو علاقے کا دورہ کروایا۔ اس صحافیوں کو طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے ڈمہ ڈولہ کے علاقے میں بھی لے جایا گیا۔ پاکستانی فوج کے مطابق اس علاقے میں عسکریت پسندوں نے مضبوط غاروں میں پناہ لے رکھی تھی۔

Soldat in Mingora / Pakistan

اورکزئی کا علاقہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکز سمجھا جاتا ہے

اگست دوہزار آٹھ میں بھی پاکستانی فوج نے باجوڑ میں آپریشن شروع کیا تھا اور گزشتہ برس جنوری میں اس آپریشن کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ علاقے کو عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے تاہم اس اعلان کے بعد وقفے وقفے سے پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور رواں برس جنوری میں فوج نے دوسری مرتبہ آپریشن کیاگیا۔

فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل طارق خان نے بھی اورکزئی ایجنسی میں ممکنہ فوجی آپریشن کا اشارہ دیا ہے تاہم اس آپریشن کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

فوج کے مطابق باجوڑ آپریشن میں حتمی لڑائی کے دوران 75 طالبان کو ہلاک کیا گیا جبکہ 2008ء سے اب تک مجموعی طور پر 2200 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ خبررساں ادارے DPA نے ایف سی کے کرنل نعمان سعید کے حوالے سے بتایا ہے کہ باجوڑ آپریشن میں مجومی طور پر سیکیورٹی فورسز کے 149 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق