1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورکزئی آپریشن: ’تکمیل کا دعویٰ درست نہیں‘

پاکستانی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ کہ اورکزئی ایجنسی کو عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے اور وہاں مکمل حکومتی عمل داری قائم کر دی گئی ہے، صرف دعووں کی حد تک ہی درست دکھائی دیتا ہے۔

default

دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج کے یہ دعوے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے 2003ء میں کئے گئے ان دعووں کی طرح غلط تخمینے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، جن میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ افغانستان جنگ فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستانی فوج کی طرف سے قبائلی علاقوں میں کارروائی اور عسکریت پسندوں کی سرکوبی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ ابھی جنگجوؤں کے بنیادی اڈے سلامت ہیں اور وہ بڑی آسانی سے کسی بھی علاقے کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Flash-Galerie Pakistan: Soldaten in Lahore, Pakistan

پاکستانی فوج قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں سے برسرپیکار ہے

خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر فوج کی طرف سے ایسے دعووں کا ایک واضح مقصد عوامی حوصلے بڑھانے کی کوشش ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نہایت چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہو۔

پاکستانی فوج کے ایک سابق جنرل اور معروف دفاعی تجزیہ کار طلعت حسین کے مطابق فوج کی طرف سے ایسے دعووں کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

’’عوام سوچتے ہیں کہ شاید یہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے، خصوصا اورکزئی ایجنسی کی۔ مگر فوج ایسے دعووں کی مدد سے عوام کو اطمینان کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘

طلعت حسین کے مطابق فوج کی طرف سے کامیابیوں کے دعووں کے ساتھ ساتھ طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے ان دعووں کے بارے میں اب سوالات بھی اٹھائے جانے لگے ہیں۔

Pakistan Militärsprecher Athar Abbas in Rawalpindi

پاکستانی فوج کی جانب سے لاگاتار کامیابیوں کے دعوے کئے جا رہے ہیں

’’میرے خیال میں یہ عسکریت پسندوں کی قوت کا غلط اندازہ لگا کر لڑی جانے والی جنگ دکھائی دے رہی ہے اور فوج کو ایسے غیر ضروری اعلانات سے پرہیز کرنا چاہئے۔‘‘

اورکزئی ایجنسی کو پاکستانی طالبان کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے اور فوج نے گزشتہ ماہ اس ایجنسی کے مرکزی علاقے کالایا سے 60 کلومیٹر دور طالبان کا گڑھ کہلانے والے علاقے ڈجابوری پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس دعوے کے فورا بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اورکزئی ایجنسی کا دورہ کرتے ہوئے وہاں فوجی آپریشن کی تکمیل کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم اس اعلان کے صرف ایک ہی روز بعد اسی علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ایک جھڑپ میں 20 جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے ایک قبائلی رہنما لعل جان کے مطابق اورکزئی ایجنسی میں صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ’’طالبان نے اہم پہاڑی چوٹیوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ بڑی آسانی سے واپس لوٹ سکتے ہیں۔‘‘

تین جون کو درجنوں عسکریت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس میں چھ فوجی ہلاک ہو گئے۔ حکومت کے مطابق اس حملے میں ملوث 30 عسکریت پسند مارے بھی گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مسلسل جھڑپوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس علاقے میں فوجیوں اور عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باوجود طالبان اب بھی اورکزئی ایجنسی کے اہم مقامات پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM