1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورنج ٹرین منصوبہ: تاریخی عمارات کے قریب تعمیراتی کام پر پابندی

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے دارالحکومت میں جاری اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی راہ میں آنے والی گیارہ تاریخی عمارتوں کے قریب دو سو فٹ کی حدود میں ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جمعے کے روز جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے طرف سے جاری ہونے والے ایک سو صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں پنجاب کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ ان گیارہ تاریخی عمارتوں کے قریب ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے ان عمارتوں کو ممکنہ طور پر پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے، عالمی معیار کے حامل غیر جانب دار ماہرین کے ذریعے ایک تازہ اسٹڈی کروائیں۔ دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ نے میٹرو ٹرین منصوبے پر ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے دائر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کو پنجاب حکومت ایک لینڈ مارک منصوبہ قرار دیتی ہے۔ یہ 165 ارب روپے کی لاگت سے چین سے ملنے والے ایک قرضے کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے ۔ حکومتی دعوؤں کے مطابق 27 کلومیٹر طویل اس میٹرو ٹرین منصوبے کے ذریعے پانچ لاکھ شہریوں کو سفر کی معیاری سہولیات فراہم ہو سکیں گی۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ سول سوسائٹی کے نمائندے اور شہریوں کی تنظیمیں اس منصوبے کی زَد میں آنے والی تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے پچھلے کئی مہینوں سے آواز اُٹھا رہی تھیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب شالامار باغ، گلابی باغ، بدو مقبرہ، چوبرجی، زیب النسا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ، ایوانِ اوقاف،سینٹ اینڈریوز چرچ اور بابا موج دریا دربار کے دو سو فٹ کے فاصلے پر تعمیری سرگرمیاں جاری نہیں رکھی جا سکیں گی۔

اورنج لائن منصوبے کے حوالے سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی پیروی کرنے والے وکیل اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں تاریخی عمارتوں کو تحفظ ملے گا اور مستقبل میں ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں ہو سکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ میٹرو ٹرین کے حوالے سے عدالتوں میں تین طرح کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ پہلی قسم کے کیسز میں اس منصوبے کی عدم شفافیت، غیر منصفانہ لاگت، ٹرانسپیرنسی کے قوانین کو نظر انداز کر نے اور پیپرا قوائد کی پابندی نہ کر نے کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ عدالت اس درخواست کی سماعت نو ستمبر کو کرنے والی ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے لیے زمین حاصل کر نے کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، ان کے خلاف بھی کئی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں،’’اس منصوبے کے ماحولیات پر ہونے والے منفی اثرات کے حوالے سے اب ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔‘‘

کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد میٹرو ٹرین منصوبہ تاخیر کا شکار اور اس کی لاگت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے قانونی ماہرین سے مشورے شروع کر دیے ہیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میٹرو ٹرین کے حوالے سے جاری عدالتی سرگرمیاں اگر طول پکڑ گئیں تو اس کی تعمیر میں اتنی تاخیر ہو سکتی ہے کہ حکومت 2018 کے انتخابات میں اس کا فائدہ حاصل نہیں کر سکے گی۔

اس کیس کے ایک اور درخواست گزار عبداللہ ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس فیصلے سے آئین اور قانون کی فتح ہوئی ہے، ’’اس فیصلے کے اثرات بہت دور رس ہوں گے اور آئندہ کسی بھی حکومت کو یہ جرات نہیں ہو گی کہ وہ ترقیاتی کاموں کی آڑ میں قومی ورثے کو برباد کرنے کی جسارت کر سکے۔‘‘

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کر تے ہوئے میٹرو ٹرین منصوبے سے وابستہ پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ عدالت نے اس فیصلے میں میٹرو ٹرین منصوبے پر تعمیراتی کام ختم کر نے کے لیے نہیں کہا ہے۔ بلکہ صرف گیارہ تاریخی عمارتوں کے نزدیک تعمیراتی کام کو بند کرنے کے لیے کہا ہے۔ ان کے بقول ان مقامات پر تعمیراتی سرگرمیاں عدالتی حکم امتناعی کی وجہ سے پہلے سے ہی بند ہیں۔

ان کے بقول اس منصوبے پر پینتالیس فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور تاریخی عمارتوں والے علاقوں کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں میں میٹرو ٹرین پراجیکٹ پر کام زور و شور سے جاری ہے، ’’ہمارے پاس اپیل کرنے کا حق موجود ہے۔ ہمیں جونہی اجازت ملی تو ہم ان گیارہ مقامات پر بھی عدالتی حکم کی روشنی میں تعمیراتی کام جلدی سے مکمل کر لیں گے۔‘‘

انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ اقوام متحدہ کے اداروں نے میٹرو ٹرین منصوبے پر کام روک دینے کے لیے کہا ہے۔