1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اورلینڈو حملے کی عالمی سطح پر مذمت

امریکی شہر اورلینڈو کے ایک ہم جنس پرست کلب پر اتوار کو ہونے والے شوٹنگ کے واقعے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ اس بہیمانہ کارروائی کے نتیجے میں پچاس افراد ہلاک جبکہ ترپن زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے ریاست فلوریڈا میں رونما ہونے والے شوٹنگ کے اس بدترین واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی اور نفرت آمیز عمل‘ قرار دیا ہے۔

اتوار کو علی الصبح ایک حملہ آور نے ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں واقع ہم جنس پرستوں کے ایک کلب پر حملہ کرتے ہوئے پچاس افراد کو ہلاک جبکہ ترپن کو زخمی کر دیا تھا۔ پولیس کے ساتھ مقابلے میں حملہ آور بھی مارا گیا تھا۔

امریکی صدر اوباما نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غم کے اس موقع پر امریکی عوام متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی خفیہ ادارہ ایف بی آئی اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ’دہشت گردی کے عناصر‘ کی چھان بین بھی کر رہا ہے۔

USA Orlando Symbolbild Trauer nach Attentat

اورلینڈو حملے کے باعث امریکا بھر میں سوگ کا عالم ہے

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اس خونریز واقعے کو ’بے حسی اور نفرت پر مبنی‘ کارروائی قرار دیا ہے۔ ویٹی کن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ پوپ فرانسس انسانی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہیں جبکہ وہ اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

برطانوی شاہی خاندان کی طرف سے بھی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بہیمانہ کارروائی پر ملکہ اور ان کے شوہر شدید صدمے میں ہیں۔ برطانوی شاہی خاندان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس ’قتل عام‘ کے واقعے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے لیے دعا گو ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ متعدد یورپی ممالک کے رہنماؤں نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔

حملہ آور کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا والد افغانستان سے امریکا آیا تھا۔ انتیس سالہ عمر متین کے بارے میں ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ شدت پسندی کی طرف راغب ہو چکا تھا۔

اورلینڈو میں شوٹنگ کے اس واقعے کو امریکا کی تاریخ میں فائرنگ کا بدترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں دہشت گردی سے متاثرہ یورپی ممالک فرانس اور بیلجیم نے بھی اس واقعے پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ اس خونریزی کی وجہ سے انہیں ایک ’دھچکا‘ لگا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اورلینڈو میں خونریزی قابل مذمت ہے۔ ادھر ماسکو میں کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی اس کارروائی کو ایک بہیمانہ عمل قرار دیا ہے۔