1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوبر ٹیکسی: پاکستانی ڈرائیوروں کو خواتین کے تحفظ سے متعلق تربیت

کیلیفورنیا میں قائم اوبر ٹیکسی کمپنی نے پاکستان میں ڈرائیوروں کو اس بارے میں تربیت دینا شروع کر دی ہے کہ کس طرح خواتین کو ہراساں کیے جانے سے بچا جا سکے۔ اوبر نے حال ہی میں اپنی سروس پاکستان میں لانچ کی ہے۔

معروف امریکی ٹرانسپورٹ ایپ اوبر نے حال ہی میں اپنی سروس کو پاکستان میں لانچ کیا ہے، جس کے بعد دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی شہری اس سروس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم کمپنی اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ جو ڈرائیور اس کے لیے کام کریں وہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں آگاہی رکھتے ہوں۔

اس حوالے سے کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’پاکستان میں اس حوالے سے آگاہی کم ہے کہ کون سی چیزیں جنسی ہراس کے زمرے میں آتی ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’محسوس ہوتا ہے کہ یہ باتیں پاکستان کی بنیادی تعلیم کا حصہ نہیں ہیں۔‘‘

اوبر کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف لاہور اور قاہرہ میں اوبر ڈرائیوروں کو اس حوالے سے تربیت دی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ سن دو ہزار چودہ میں بھارتی دارالحکومت میں اوبر کے ایک ڈرائیور کی جانب سے ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد بھارتی حکومت نے دہلی میں اوبر سروس پر پایندی عائد کردی تھی۔

پاکستان میں خواتین پر جنسی تشدد اور ان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بہ کثرت ہوتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پنجاب اسمبلی نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی قانون منظور کیا تھا۔ تاہم اس قانون پر مذہبی اور معاشرے کے دیگر حلقوں نے شدید اعتراضات کیے ہیں اور اسے اسلام اور قرآنی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ ان حلقوں کی کوشش ہے کہ اس قانون کو کالعدم قرار دلوا دیا جائے۔

تاہم اوبر کی کوشش ہے کہ ڈرائیوروں کی تربیت سے اس بات کو ممکن بنایا جا سکے کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات نہ ہوں۔ لاہور میں اس حوالے سے سیمینار کا اہتمام کیا گیا، اور نئے ڈرائیوروں کے لیے آئندہ بھی ایسے تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا رہے گا۔

سیمینار کو ڈیزائن کرنے والی طوبیٰ فاطمہ کا اس بارے میں کہنا تھا، ’’ہمارا بنیادی مقصد ڈرائیوروں کو یہ بتانا ہےکہ جنسی ہراس صرف ضر پہنچانا نہیں ہے۔ آپ کی سوچ چاہے جو بھی ہو، کسی خاتون کو کسی بات سے غیر مطمئن کر دینا بھی ہراس ہے۔‘‘

طوبیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں لوگ خواتین کو گھورنا اور ان کے لباس پر رائے زنی کرنا ’نارمل‘ بات سمجھتے ہیں، اور اس کی اجازت اوبر ڈرائیورز کو نہیں دی جا سکتی۔

DW.COM