1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوباما، یورپ اور توقعات

سابق امریکی صدر جون ایف کینیڈی کے بعد باراک اوباما دوسرے امریکی صدر ہیں جنہیں امریکہ کے اندر اور بیرون ملک جس جوش اور والہانہ پن کے ساتھ دیکھا جاتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

default

پچھلے برس اوباما کے برلن کے دورے کا ایک منظر

جب گزشتہ برس باراک اوباما جولائی کے ماہ میں جرمنی آئے تھے تو ان کے والہانہ استقبال کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ برلن میں اسوقت دولاکھ شائقین اوراوباما کے دیوانے سیاہ فام امریکی لیڈرباراک اوباما کو اگلے امریکی صدر کی حیثیت سے دیکھنے کی تمنا کا انوکھا اظہار کررہے تھے۔ ان کی جیت جرمن عوام کے جذبات کے والہانہ پن سے اورزیادہ یقینی لگ رہی تھی۔

خوش امیدی کے ابھرتے ہوئے جذبات کا اظہار نہ صرف جرمن عوام کر رہے تھے بلکہ چوٹی کے جرمن سیاستدان بھی باراک اوباما کو امریکی سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی اور امریکہ جرمن تعلقات میں فروغ کا ایک نادر موقع سمجھ رہے تھے جس کا اظہار انکے بیانات سے ہوتا ہے۔

وفاقی جرمن صدر ہورسٹ کیولر کے الفاظ: ’’یہ ایک نادر موقع ہے جرمن امریکی تعلقات کو زیادہ قابل اعتماد بنیادوں پر استوار کرنے کا۔ یہ موقع نہ صرف امریکہ اور جرمنی کے لئے قیمتی ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

لیکن بون یونیورسٹی کے ایک ماہر سیاسیات پروفیسر کرسٹیا ن ہاکے ان خوش فہمیوں کے شکاراوربہت زیادہ امید وابستہ کرنے والوں کو انتباہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’ اوباما دلوں کو جیتنے کے ماہر ہیں۔ تاہم انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ وہ اپنی کرشماتی شخصیت اوراس کی کشش کو اپنے ملک کے مفادات کے لئے کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ اوراس امرمیں شک وشبہے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘

تاہم جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹراشٹائن مائر پران باتوں کا کوئی اثر نہیں۔ وہ اوباما سے پر امید نظر آتے ہیں:’’ تحفظ ماحولیات، توانائی اورتخفیف اسلحہ کی سیاست اور عالمی تنظیموں کے ساتھ اشتراک عمل سے متعلق اوباما کی تجاویز ہماری پالیسیوں سے مختلف نہیں۔ اس لئے مجھے آنے والے وقت میں اوباما کے ساتھ کام کرنے میں بہت لطف آئے گا۔‘‘

Bildgalerie Obama in Berlin Händedruck mit der Kanzlerin

امریکی صدر باراک اوباما اور جرمن چانسلر اینگلا میرکل

جن نقطوں کا ذکرجرمن وزیرخارجہ نے کیا دراصل ان کے بارے میں سابق امریکی صدرجارج ڈبلیوبش کی حکومت اوربرلن حکومت کے مابین اہم آہنگی بہت کم نظر آتی تھی۔

اس کے باوجود اوباما اورجرمن حکومت کے درمیان بھی چند اہم معاملات میں عدم اتفاق ہے۔ گزشتہ برس موسم گرماں میں جب اوباما برلن آئے تھے تو انھوں نے جرمنی اوردیگر یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اوباما کے اس بیان سے وفاقی جرمن وزیر دفاع پریشان ہوئے ہوں گے؟

بالکل نہیں اس کے برعکس ان کا کہنا تھا:’’ نہیں ہم بالکل پریشان نہیں کیونکہ امریکہ اور جرمنی کے درمیان بھرپور اعتماد کی فضاء قاہم ہے اور دونوں ممالک بہترین اشتراک عمل کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔‘‘

یہی نہیں بلکہ برلن اور واشنگٹن حکومت کے باہمی تعلقات کے امورکے رابطہ کار کارسٹن فوئیگٹ بھی فی الحال جنوبی افغانستان میں جرمن فوج کی تعیناتی کے متنازعہ مسئلے کو گھمبیر نہیں سمجھتے:’’ اوباما کے مشیروں کوعلم ہے کہ اس سال جرمنی میں پارلیمانی انتخابات کے سال کے دوران وفاقی پارلیمان کی اکثریت کسی صورت جنوبی افغانستان میں اپنی فوج کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں کرے گی اوراس وجہ سے اوباما مزید اس بارے میں مطالبہ نہیں کریں گے۔‘‘

کیا نئے امریک صدر کے برسر اقتدار آنے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟

بائیں بازو کی پارٹی کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ گریگور گیزی اوباما کے بارے میں پائے جانے والے والہانہ اور غیرمعمولی پرمسرت جذبات کی روء میں نہیں بہنا چاہتےوہ کہتے ہیں:’’مجھے معلوم ہے کہ اوباما کو بھی انہیں خفیہ ایجنسیوں، اقتصادی اداروں، بینکوں، فوج اورمحکموں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا جن کے ساتھ جارج بش کام کرتے رہے ہیں اوراس لئے مجھے امریکی سیاست میں کسی بنیادی تبدیلی کی کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔‘‘

تاہم توانائی کی سیاست کے سلسلے میں اوباما حکومت جرمنی کو حیران کر سکتی ہے۔ یہ ماننا ہے ماحول پسند گرین پارٹی پارلیمانی دھڑے کے سربراہ فرٹس کوہن کا:’’سب سے پہلے باراک اوباما کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے جس کے لئے انہیں ایک وسیع ترقیاتی شعبہ چاہئے ہوگا اس کے لئے سب سے موزوں شعبہ توانائی کا ہے کیونکہ امریکہ اس شعبے میں بہت پیچھے ہے۔ توانائی کے شعبے میں وہ لاکھوں آسامیاں پیدا کرسکتے ہیں اور کریں گے اورجرمنی کے لئے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم اس شعبے میں سب سے آگے ہیں کیونکہ اس شعبے میں امریکہ، سیاسی تبدیلی کے بعد کافی متحرک ہوسکتا ہے۔‘‘

اور اگرجرمنی کی موٹر سازصنعت پرامریکی سیاست کے سبب منفی اثرات مرتب ہوتے تو جرمن چانسلرانگیلا میرکل نہایت سنجیدہ اورسخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے جرمنی کی موٹر ساز صنعت کے مفادات کا دفاع کریں گی۔ اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ہم بہت لمبے عرصے تک یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ امریکی حکومت اپنی موٹر ساز صنعت کے فروغ کے لئے اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کرتی رہے جو جرمنی کے مفادات کے لئے نقصان دہ ہو گا۔

BdT Obama in Berlin - Rede 2

برلن میں عوام کے درمیان باراک اوباما

تاہم جرمن چانسلر نئی امریکی قیادت سے پر امید نظر آتی ہیں: ’’ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ امریکہ اورجرمنی کی گہری دوستی اوراشتراک، ممکنہ تنازعات کو دور کرنے کے لئے مددگارثابت ہوگا۔‘‘

مالیاتی بحران سے لے کر عراق، افغانستان اورتنازعہ مشرق وسطی تک۔ یہ مسائل اور ان سے نمٹنے کی ذمہ داری اوریہ معاملات نہایت سنگین ہیں۔ اسی لئے بون یونیورسٹی کے پروفیسر ہاکے نئے امریکی صدر سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرنے سے خبردار کر رہے ہیں:’’ باراک اوباما سے بہت سی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں تاہم ان سے معجزے کی امید رکھنا غیرمناسب طرزعمل ہوگا۔‘‘

نو منتخب امریکی صدر باراک اوباما سے چند چوٹی کے یورپی لیڈروں کی توقعات کیا ہیں

فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی کہتے ہیں:’’ ایک ایسے وقت میں جب ہم سب گوناگوں اور بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، باراک اوباما کے منتخب ہونے سے فرانس، یورپ اور اس سے ماوراء بہتری کی امیدیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔‘‘

یورپی کمیشن کے صدر ہوزے مانوئل باروسو کا کہنا ہے: ’’ہم سب کو مل کر موجودہ بحرانی صورتحال کو نئے مواقعوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ہم ایک نئی دنیا کے لئے ایک نئی ڈیل کی ضرورت ہے۔ نئے امریکی صدر باراک اوباما کی قیادت سے مجھے قوی امید ہے کہ امریکہ اس نئی دنیا کی تشکیل کے لئے یورپ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گا۔‘‘

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے بقول امریکہ اور یورپ کو مشترکہ طور پر عالمی سطح پر پائے جانے والے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ محض مالیاتی بحران نہیں بلکہ تا مینی اقدامات کو ختم کرنے کی مل جل کرکوششیں کرنا ہوں گی۔ مشرق وسطی میں پائیدار امن و استحکام کو اشتراک عمل سے یقینی بنانا ہوگا۔