1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما یا اولانڈ شامی قیادت نہیں چن سکتے، پوٹن

روسی صدر ولادیمر پوٹن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شامی تنازعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اوباما اور فرانسیسی صدر اولانڈ شامی قیادت کے انتخاب کا حق نہیں رکھتے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرائنی تنازعے میں کسی حد تک تنہائی کے شکار پوٹن نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شامی مسئلے اور دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت پر زور دے کر یوکرائن کے معاملے پر اپنی عالمی تنہائی کم کرنے کی کوشش کی۔

صدر پوٹن نے کہا کہ امریکی صدر اوباما اور فرانسیسی صدر اولانڈ شام کے شہری نہیں، اس لیے انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ شام کا رہنما کون ہو گا۔

گزشتہ ایک دہائی میں یہ پہلا موقع تھا کہ روسی صدر پوٹن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف اقوام متحدہ کی حمایت سے ایک وسیع تر بین الاقوامی اتحاد کی ضرورت ہے۔ اپنے خطاب کے بعد کل شام میں انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے بھی 90 منٹ دورانیے کی ملاقات کی۔

Obama Putin: Das Treffen am Rande der UN-Vollversammlung

اوباما اور پوٹن کے درمیان ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی

پوٹن نے امریکی صدر کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’تعمیری اور حیرت انگیز طور پر کھلے پن کی حامل‘ قرار دیا۔

گزشتہ قریب دو برسوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ روسی اور امریکی صدور نے ایک دوسرے سے بالمشافہ ملاقات کی۔ صدر اوباما نے بھی گزشتہ روز جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ شامی تنازعے کے حل کے لیے روس اور ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

یہ تازہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے، جب روس نے اپنے سینکڑوں فوجی اور عسکری سازوسامان شام میں تعینات کر دیا ہے اور اس سے مغربی ممالک کو یہ خدشات لاحق ہو گئے ہیں کہ ماسکو حکومت اپنے دیرینہ اتحادی بشارالاسد کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والی ہے۔

ادھر خطے کے ممالک سعودی عرب اور ترکی کا اصرار ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے ہر حالت میں بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنا ہو گا۔ تاہم روسی صدر نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ شام میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ’ملک کی جائز حکومت‘ کا ساتھ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف اسی صورت ممکن ہے کہ شامی فورسز کا ساتھ دیا جائے، جو اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں سے میدان جنگ میں مصروف عمل ہیں اور ساتھ ہی شام میں اپوزیشن کے ساتھ تعمیری مکالمت کا آغاز ہو، تاکہ یہ ملک بھی لیبیا یا عراق کی طرح اپنے ادارے نہ کھو دے۔

دریں اثناء وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا کہ حالانکہ دونوں رہنماؤں نے شامی مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اصلاحات پر اتفاق کیا ہے، تاہم دونوں صدور شام کے مستقبل میں صدر اسد کے کردار پر اختلافات رکھتے ہیں۔