1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما، گوآنتانامو بند کریں گے؟

امریکی صدارتی انتخابات کے بعد دنیا کی نظریں نو منتخب صدر باراک اوباما کی انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کو کوششوں پر لگی ہیں

default

اوباما کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ گوآنتانامو بند کر دیں گے

دنیا بھر میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ نئی امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی اور زیادہ مثبت سوچ اپنائے گی۔ اس حوالے سے خلیج گوآنتانامومیں قائم متنازعہ جیل بھی زیر بحث ہے۔ ستمبر 2001 میں امریکہ پر دہشت گردارنہ حملوں کے بعد کیوبا کے جزیرے پر واشنگٹن حکومت کے زیرانتظام قائم کردہ یہ فوجی جیل قیدیوں کے خلاف بدسلوکیوں کے باعث بدنام ہے اور اپنی انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما نے کیمپ ایکسرے کہلانے والی اس جیل کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے وہ گوآنتانامو جیل بند کرنے کا وعدہ پورا کریں گے۔


دوسری جانب موجودہ صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت کا کہنا ہے کہ گوآنتانامو کے قیدیوں کو رہا کیا گیا تو وہ پھر سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہوجائیں گے۔ تاہم ماہرہن کا کہنا ہے کہ حقائق اس دعوے کے برعکس ہیں کیونکہ مئی 2003 سے گوآنتانامو جیل میں قید 117 سعودی قیدیوں کو رہا کیاجاچکا ہے جس کے بعد ان میں سے کوئی بھی دوبارہ دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث نہیں پایا گیا۔

اسی حوالے سے جمعرات کے روز بش انتظامیہ کو ایک دھچکہ اس وقت لگا جب ایک امریکی وفاقی عدالت کے جج Richard Leon نے گوآنتانامو کے پانچ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت یہ ثابت نہیں کرسکی کہ الجزائر کے یہ پانچ شہری امریکی افواج کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے افغانستان گئے تھے۔ مبصرین نے اس عدالتی فیصلے کو بش انتظامیہ کے لیے ایک قانونی ناکامی قرار دیا۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر Jonathan Turley کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو توقع تھی یہ جج ان کے حق میں فیصلہ دے گا تاہم ان کی طرح ٹریبیونل پر تنقید کرنے والوں کو اس فیصلے پر حیرت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب جانتے ہیں کہ جب بھی ایسا مقدمہ کسی حقیقی عدالت میں جائے گا تو وہ ناکام ہی ہوگا۔ ٹریبیونل سسٹم حقیقی عدلیہ سے بچنے کے لے ہی تو بنایا گیا تھا۔


گوآنتانامو جیل کے قیدیوں کے بارے میں یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ رہائی کے بعد وہ کہاں جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ایک تفتیشی افسر Manfred Nowak کا کہنا ہے کہ بیشتر قیدی تشدد اور تعاقب کے خوف سے واپس اپنے ملکوں کو نہیں جائیں گے اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے والے یورپی ممالک کو چاہئے کہ وہ ان قیدیوں کو اپنے ہاں پناہ دیں۔


گوآنتانامو بے میں موجود قیدیوں کی تعداد 255 تک بنتی ہے۔مانفریڈ نوواک نے توقع ظاہر کی کہ ان میں سے 40 سے 50 قیدی یورپی ممالک کو پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد یورپی ممالک نے ان قیدیوں کو پناہ دینے میں دلچسپی بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم انہوں نے کسی ایسے ملک کی خاص طور پر نشاندہی نہیں کی۔


ادھر کوپن ہیگن میں ڈینش وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ڈنمارک گوآنتانامو بے کے کسی قیدی کو پناہ نہیں دے گا۔ جبکہ جرمن وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کسی بھی بیان بازی سے انکار کردیا۔