1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کے دو روزہ دورہ آسٹریلیا کا آغاز

امریکی صدر باراک اوباما دو روزہ دورہ آسٹریلیا پر کینبرا پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان چھ دہائیوں سے چلی آ رہی سکیورٹی الائنس کی تجدید ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

باراک اوباما کا یہ دورہ قبل ازیں دو مرتبہ مؤخر کیا گیا تھا، تاہم ایئرفورس وَن بدھ کو بالآخر آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا میں اترا۔ اوباما اپنے آبائی علاقے ہوائی سے وہاں پہنچے۔

وہ اٹھائیس گھنٹے آسٹریلیا میں قیام کریں گے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تعاون پر اعلان متوقع ہے۔ اوباما امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان اہم تجارتی اور اسٹریٹیجک تعلقات پر زور دینا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی اس کوشش کے تناظر میں بھی اہم ہے کہ عراق اور افغانستان سے انخلاء کے حوالے سے وہ ایشیا کے لیے اپنی سکیورٹی پالیسی کو ازسر نو ترتیب دینے کے خواہاں ہیں۔

اوباما اس دورے کے موقع پر بدھ کو ہی آسٹریلیا کی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ سے ملاقات کریں گے۔ بعدازاں دونوں رہنما مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔ اوباما جمعرات کو آسٹریلوی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کریں گے۔

اس سے پہلے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2003ء میں کینبرا میں

Australien Premierministerin Julia Gillard

آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ

پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا۔ اس وقت آسٹریلوی گرین پارٹی کے رہنما باب براؤن نے عراق جنگ پر بش کی تقریر میں مداخلت کی تھی۔ جمعرات کو اوباما کی تقریر کے موقع پر بھی براؤن کی پارلیمنٹ میں موجودگی متوقع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کینبرا پہنچنے سے قبل ایئرفورس وَن پر موجود قومی سلامتی کے نائب مشیر بین رھودس نے دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعاون کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ دورہ اسی تعاون میں آسٹریلیا کی دلچسپی کا ردِ عمل ہے اور اس سے امریکہ کو ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں زیادہ سے زیادہ جغرافیائی توازن قائم کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘

آسٹریلیا کے دورے کے بعد باراک اوباما انڈونیشیا روانہ ہو جائیں گے، جہاں وہ ہفتے کو ایسٹ ایشیا سمٹ میں شرکت کریں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس