1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کے دورِ صدارت کے اختتام پر پھیلتے مایوسی کے سائے

برطانوی ریفرنڈم کے نتیجے نے امریکی صدر کی دوسری مدت کے آخری مہینوں پر سیاہ بادل پھیلا دیے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی مدتِ صدارت کے ساڑھے سات برس برطانوی حکومت پر تکیہ کیا لیکن اِسی ملک کی عوام نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

برطانیہ برسوں سے امریکا کا حلیف ہے اور موجودہ امریکی صدر اوباما کی حکومت عالمی امور میں برطانیہ کے سہارے کو انتہائی اہم خیال کرتی رہی ہے۔ واشنگٹن کا لندن حکومت پر مکمل بھروسہ ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن اب جب کہ اوباما حکومت صرف چھ مہینے کی مہمان رہ گئی ہے، انہیں ایک بڑے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اوباما نے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ پر واضح کیا ہے کہ امریکا دونوں فریقین کو ناگزیر پارٹنرز تصور کرتا ہے۔ اوباما کے مطابق اِس ریفرنڈم سے سامنے آنے والے عوامی نتیجے کے باوجود مشترکہ تاریخی تعلقات کی مرہونِ منت روابط برقرار رہیں گے۔ انہوں نے اِس امید کا اظہار کیا کہ اب برطانیہ یورپی یونین سے اخراج کے بعد عالمی معاملات کے حوالے سے امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

Japan EU-Referendum Brexit Markt in Tokio

بریگزٹ کے نتیجے سے برطانوی کرنسی پاؤنڈ کی قدر گر گئی ہے

اوباما نے برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ ریفرنڈم کے نتیجے کی صورت میں یورپی یونین سے باہر ہوتے ہوئے برطانیہ کو تجارت میں ترجیحی درجہ شاید حاصل نہ ہو سکے۔ نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے زیادہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت نے بریگزٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو خاص فوقیت کبھی نہیں دی تھی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ریفرنڈم سے قبل اور بعد میں دیے گئے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی صدر کو کسی حد تک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

امریکی صدر نے اِس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین کو خیرباد کہہ دینے کے بعد بقیہ بلاک اپنی موجودہ شناخت کو برقرار رکھے گا۔ وائٹ ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اخراج کے واشنگٹن اور لندن کے دو طرفہ تعلقات پر بظاہر واضح اثرات مرتب ہونے کا امکان کم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اوباما نے یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ برطانوی امریکی باہمی تعلقات معمول کے مطابق رہیں گے اور اِس کا انحصار کیمرون کے اکتوبر میں مستعفی ہو جانے کے بعد سامنے آنے والے نئے لیڈر پر ہو گا۔