1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کی مشرقِ وسطیٰ امن کوششیں دھوکا ہیں، ایمن الظواہری

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششیں ایک ’فریب‘ ہیں اور اسرائیل کا وجود ناقابلِ قبول ہے۔

default

ایمن الظواہری اور اسامہ بن لادن

امریکی مانیٹرنگ گروپ نے تصدیق کی ہے کہ اسامہ بن لادن کے نائب، ایمن الظواہری کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام ریلیز کیا گیا ہے، جس کا ہدف امریکی صدر باراک اوباما کی شخصیت اور پالیسیاں ہیں۔

Barack Obama in Cairo

قاہرہ یونی ورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے امریکہ اور مسلم ممالک کے ساتھ ایک نئے آغاز کی بات کی تھی

مصر سے تعلق رکھنے والے اور القاعدہ کا ’دماغ‘ سمجھے جانے والے ماضی کے سرجن ایمن الظواہری نے امریکی صدر باراک اوباما پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر بالخصوص اور مسلم دنیا سے متعلق حکمتِ عملی پر بالعموم تنقید کرتے ہوئے اسے ایک فریب قرار دیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر اوباما نے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم دنیا، بشمول ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے جون میں قاہرہ یونیورسٹی میں ایک تاریخی خطاب کرتے ہوئے مسلم ممالک کو قریب لانے کا عندیہ دیا تھا۔ باراک اوباما مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے حل کے لیے نہ صرف یہ کہ اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں بلکہ ان کی انتظامیہ شام کے ساتھ بھی دو طرفہ بات چیت کا آغاز کر چکی ہے۔

US-Sondergesandter Mitchell mit Palästinenserpräsident Abbas in Ramallah

فلسطینی صدر محمود عبّاس اور امریکی مندوب جارج مچل

ایمن الظواہری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر کی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششیں دھوکا ہیں اور وہ ایک ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، جو اسرائیل کا بغل بچّہ بن کر رہے۔ ظواہری کے مطابق اسرائیل ’ایک جرم ہے اور اس کو صفحہِ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ ایمن الظواہری کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام گزشتہ برس نومبر میں باراک اوباما کی تاریخ ساز فتح کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں الظواہری نے اوباما کو ’ہاؤس نیگرو‘ یا ’سفید فام افراد کے گھروں میں کام کرنے کے لیے افریقہ سے لایا گیا سیاہ فام غلام‘ قرار دیا تھا۔

القاعدہ کے نائب کے مطابق امریکی صدر اوباما اور سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ہی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ الظواہری نے دلیل پیش کرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا ذکر کیا۔ واضح رہے کہ جولائی کے مہینے میں الظواہری نے ایک پیغام میں پاکستانی عوام سے عسکریت پسندوں کا ساتھ دینے کی اپیل کی تھی۔

القاعدہ کے رہنما نے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور فرانس میں برقعہ پر پابندی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ فرانس سیکولر ازم کے دعوے تو کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اسلام دشمن جذبات رکھتا ہے۔