1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کی طرف سے لیبیا کو فوجی کارروائی کی دھمکی

امریکی صدر باراک اوباما نے جمعے کے روز لیبیا کے خلاف سخت رویہ اپناتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ معمر قذافی کی طرف سے اپنے ہی عوام کے خلاف ’ظالمانہ‘ کارروائیوں کی بنا پر وہاں فوجی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔

default

امریکی صدر، جو اب تک لیبیا کے خلاف کسی براہ راست فوجی کارروائی سے گریزاں رہے ہیں، واضح الفاظ میں کہا کہ معمر قذافی لیبیا کے عوام کے خلاف مظالم، وہاں ہزاروں افراد کے قتل اور پورے خطے کے عدم استحکام کا باعث بنے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں تقریر کرتے ہوئے اوباما امریکی عوام اور امریکی افواج کے ساتھ ساتھ یورپی اتحادیوں اور معمر قذافی سے مخاطب ہوئے۔

اوباما کی اس تقریر کے بعد لیبیا کے خلاف بین الاقوامی فوجی کارروائی کا اسٹیج تقریبا تیار ہو گیا ہے۔ اگر لیبیا کے خلاف امریکی افواج کو قدم اٹھاتی ہیں، تو یہ اس وقت امریکہ کی افغانستان اور عراق کے بعد کسی ملک میں ایک اور فوجی مداخلت ہو گی۔

اوباما نے قذافی سے مخالف ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ لیبیا اپنے فوجی دستوں کو بن غازی کی طرف بڑھنے سے روکے، انہیں دیگر علاقوں سے نکالے، وہاں پینے کے پانی، بجلی اور گیس کی سپلائی بحال کرے اور متاثرہ علاقوں میں ہیومنٹیرین امداد کو اجازت دے۔‘‘

Krieg in Libyen

لیبیا اپنے فوجی دستوں کو بن غازی کی طرف بڑھنے سے روکے ،صدر اوباما

تاہم اپنی اس تقریر میں صدر اوباما نے قذافی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں دہرایا۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا، ’اگر قذافی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد پر عمل نہیں کرتے، تو انہیں بین الاقوامی برادری کی طرف سے نتائج بھگتنا ہوں گے، اور اس قرارداد پر عمل درآمد فوجی کارروائی کے ذریعے کروایا جائے گا۔‘‘

اوباما نے اپنے خطاب میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے یورپی اتحادیوں اور عرب پارٹنرز کے ساتھ مل کر لیبیا میں ’نوفلائی زون‘ کا قیام کر دیں گے۔ صدر اوباما نے اپنے خطاب میں یہ بھی واضح کیا کہ لیبیا میں کسی زمینی کارروائی میں امریکی افراج شریک نہیں ہوں گی اور امریکی مداخلت محدود پیمانے پر ہو گی، جس کا مقصد قذافی کی حامی فورسز کی کارروائیوں کو روکنا ہو گا۔

صدر اوباما کے اس بیان کی یورپ کی طرف سے حمایت کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل عرب ممالک نے بھی اپنے اجلاس میں امریکی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ لیبیا میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپوزیشن کے بے دریغ قتل عام کی روک تھام کے لیے فوجی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس کے مطابق الٹی میٹم کے باوجود قذافی کی حامی افواج باغیوں کے زیرقبضہ شہر بن غازی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف فوری طور پر سیزفائر کے قرارداد کی منظوری کے بعد سکیورٹی فورسز کی یہ کارروائیوں، اس قرارداد کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس