1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کی سب سے پر خطر سیاسی کوشش

امریکی صدر باراک اوباما جمعرات کو اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کو براہ راست مذاکرات کے لئے ایک ہی میز پر لے تو آئیں گے لیکن مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے اسے اوباما کی اب تک کی سب سے پر خطر کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

default

اوباما، نیتن یاہو اور عباس

امریکہ میں اسی سال کانگریس کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں اور باراک اوباما فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کو رو برو مکالمت کے لئے ایک ہی چھت کے نیچے جمع کرنے کے لئے اپنے عہدے کے وقار کے علاوہ پورا سیاسی دباؤ بھی استعمال میں لا رہے ہیں۔ لیکن بیشتر ماہرین کے مطابق اس بارے میں واضح کم امیدی اپنی جگہ ہے کہ موجودہ امریکی صدر مشرق وسطیٰ میں قیام امن سے متعلق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یا پھر یہ کہ باراک اوباما اس حوالے سے وہ سب کچھ حاصل کر سکیں گے، جو آج تک ان کے کئی پیش رو حاصل نہیں کر سکے۔

Ismail Haniyeh, Premierminister der Hamas-Regierung in Gaza, bei Parlamentssitzung

غزہ کے معروف حماس رہنما اسمٰعیل ھنیہ

مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دونوں بڑے فریقوں کو براہ راست مکالمت پر آمادہ کرنا اور پھر یہ توقع کہ کوئی حتمی امن معاہدہ اگلے باہ مہینوں میں ممکن ہو جائے گا، تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ صورت حال ثابت کرتی ہے کہ باراک اوباما نے اس سلسلے میں بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے، وہ بھی ایک ایسے تنازعے کے حل کے لئے جو دنیا کے طویل ترین اور سب سے پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔

امریکہ میں مشرق وسطیٰ کے لئے امن اور ترقی سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کے صدر سٹیفن کوہن کے بقول صدر اوباما یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ ان مذاکرات کے حوالے سے اپنا تمام تر سیاسی سرمایہ مذاکرات کی میز پر رکھ چکے ہیں۔ ’’لیکن سوال یہ ہے کہ آیا دیگر فریق بھی اتنے زیادہ خطرات مول لینے پر آمادہ ہیں؟‘‘

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ باراک اوباما کی خطے سے متعلق نتیجہ خیز سفارت کاری کی اس کوشش کے دور رس اثرات ہوں گے اور یہ عمل ایٹمی تنازعے کی وجہ سے ایران کو الگ تھلگ کر دینے کی واشنگٹن کی سیاسی کوششوں پر بھی اثرا انداز ہو سکتا ہے اور امریکہ کے مسلم دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کی کاوشوں پر بھی۔

Clinton Nahost-Verhandlungen

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن مشرق وسطیٰ کے لئے خصوصی امریکی مندوب جارج مچل کے ہمراہ

جمعرات کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی موجودگی میں براہ راست مشرق وسطیٰ امن بات چیت سے قبل امریکی دارالحکومت سے ملنے والی تجزیاتی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ جو بات صدر اوباما کی اس مکالمت کے حوالے سے کوششوں کو داخلی سیاسی نطقہ نظر سے جوئے کی ایک بڑی شرط بنا دیتی ہے، وہ یہ کہ باراک اوباما کی نظریں اسی سال نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات پر بھی لگی ہوئی ہیں اور اس بات پر بھی کہ سن 2012 کے صدارتی الیکشن میں اوباما دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہیں گے۔

مطلب یہ کہ اگر موجودہ امریکی انتظامیہ کی وساطت سے مشرق وسطیٰ میں ایک پائیدار امن معاہدے کی حصول کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو اوباما کے ری پبلکن ناقدین کو بڑی آسانی سے یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ باراک اوباما نے ایسے وعدے بھی کئے جنہیں پورا کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM

ویب لنکس