1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کی جانب سے انور العولقی کی ہلاکت کا خیر مقدم

امریکی صدر باراک اوباما نے یمن میں القاعدہ کے سینئر رہنما انور العولقی کی ہلاکت کا خیر مقدم کیا ہے۔ وہ جمعہ کو ڈرون حملے میں مارا گیا۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے امریکہ میں پیدا ہونے والے انور العولقی کی ہلاکت کے بارے میں کہا: ’’یہ ایک اور ثبوت ہے کہ القاعدہ اور اس سے منسلک لوگوں کو دنیا میں کہیں بھی ٹھکانے میسر نہیں آئیں گے۔‘‘

انہوں نے العولقی کی موت کو یمن کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے لیے سالوں سے چلے آرہے تعاون کے لیے اہم قراردیا۔

امریکی حکام نے اس پیش رفت کو واشنگٹن انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں کی کامیابی قرار دیا ہے۔ امریکہ اور یمن کے حکام نے یقین ظاہر کیا ہے کہ جمعہ کو اسی حملے میں القاعدہ کا ایک دوسرا انگریزی بولنے والا آپریٹر سمیر خان بھی ہلاک ہوا ہے۔ تاہم سمیر خان کی ہلاکت کو یقینی قرار نہیں دیا گیا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ سمیر ’انسپائر‘ نامی جریدے کا ایڈیٹر تھا، جو انگریزی زبان میں القاعدہ کے لیے  پراپیگنڈے کا اہم ذریعہ ہے۔

واشنگٹن انتظامیہ کے مطابق العولقی القاعدہ سے منسلک خطرناک ترین گروہ کی سربراہی کرتا رہا ہے۔ وہ امریکہ میں کم از کم دو ناکام حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک رہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا: ’’بہت بُرے شخص کے لیے یہ بہت بُرا دن تھا۔‘‘

Flash-Galerie Anwar al-Awlaki

انور العولقی

امریکی حکومت نے گزشتہ برس العولقی کو ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔ اسے امریکی فورسز پہلے بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر چکی ہیں، جنہیں اس کے قتل کی اجازت دی گئی تھی۔ واشنگٹن حکام کا ماننا ہے کہ وہ انگریزی بولنے والے مسلمانوں کو انتہاپسند بنانے کا کام کرتا رہا ہے جبکہ مبینہ طور پر امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی میں بھی شامل رہا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس نے العولقی کی نشاندہی عرب جزیرہ نما میں بیرونی آپریشنز کے لیے القاعدہ کے سربراہ کے طور پر کی تھی۔ وہ دنیا بھر میں امریکی شہریوں اور اہداف پر حملوں پر بھی کھلے عام زور دیتا رہا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق وہ عرب ممالک کو القاعدہ کی مخالفت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کی حکومتوں کے خلاف تشدد کی بات بھی کرتا رہا ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس