1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کی تقریر توقعات سے کہیں پیچھے، ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار رائنر زولش کے مطابق مشرقِ وُسطیٰ اور عرب انقلابی تحریکوں کے حوالے سےامریکی صدر باراک اوباما کی تقریر نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ امریکہ کا اثر و رسوخ محدود ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما

رائنر زولِش لکھتے ہیں: ’’امریکہ نے کھلے دل کے ساتھ مشرقِ وُسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جمہوری تحریکوں کی تائید و حمایت کی ہے۔ امریکہ لیبیا اور شام کی مطلق العنان حکومتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے۔ اُس نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اب بالآخر دانشمندی کا راستہ اختیار کریں اور دو ریاستی حل پر متفق ہو جائیں۔ یہ ساری باتیں دانشمندانہ اور خوش آئند سہی لیکن اِن میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے، جسے مستقبل کے حوالے سے کوئی الگ اور انوکھا تصور کہا جا سکے۔

امریکی صدر باراک اوباما کے دو سال پہلے قاہرہ میں اسلامی دُنیا سے خطاب کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھا جائے تو اُن کی اس نئی پالیسی تقریر کا لب و لہجہ ہی نہیں بلکہ متن بھی خاصا غیر جذباتی، سادہ اور حقیقت پسندانہ رہا۔ اُن کے پاس کہنے کے لیے کوئی ٹھوس نئی چیز تھی ہی نہیں۔ ہاں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ اُنہوں نے پہلی مرتبہ واضح طور پر یہ کہا کہ اسرائیلی فلسطینی تنازعے کا حل سن 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر نکالا جانا چاہیے، جس پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوری احتجاج بھی سامنے آ گیا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ رہی کہ اُنہوں نے اپنے خطاب میں یمن اور بحرین جیسے امریکی حلیفوں کو بھی نہیں بخشا۔

اوباما نے اپنے اہم ترین حلیف سعودی عرب کا اپنے خطاب میں ذکر تک نہیں کیا حالانکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں

اوباما نے اپنے اہم ترین حلیف سعودی عرب کا اپنے خطاب میں ذکر تک نہیں کیا حالانکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں

سعودی عرب کا ذکر نہیں تھا

دلچسپ بات وہ تھی، جو امریکی صدر نے کہی ہی نہیں۔ اگرچہ باراک اوباما نے بحرین حکومت کو اپنے آئندہ کے ممنکہ مذاکراتی ساتھیوں کو جیلوں میں ڈالنے سے خبردار کیا تاہم اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ دفاعی اعتبار سے اپنے اِس طرح کے اہم ساتھی ملکوں میں وہ آئندہ کس طرح سے اصلاحات کی حامی قوتوں کی مدد کریں گے۔

تیل کی دولت سے مالا مال ملک سعودی عرب خطّے میں امریکہ کا اہم ترین حلیف ہے لیکن اُس کا اوباما نے اپنے خطاب میں سرے سے ذکر ہی نہیں کیا حالانکہ وہاں کی حکومت محتاط اصلاحات کے باوجود انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اُس کا طرزِ عمل ’عر ب بہار‘ کے اُس تصور کے بالکل برعکس ہے، جو دیگر عرب ممالک میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اوباما نے انقلاب کی روشن مثالوں کے طور پر تیونس اور مصر کے لیے اور باتوں کے ساتھ ساتھ جامع مالی امداد کا بھی اعلان کیا تاکہ یہ ملک جمہوریت کی جانب اپنے سفر میں حائل مشکلات پر زیادہ اچھے طریقے سے قابو پا سکیں

اوباما نے انقلاب کی روشن مثالوں کے طور پر تیونس اور مصر کے لیے اور باتوں کے ساتھ ساتھ جامع مالی امداد کا بھی اعلان کیا تاکہ یہ ملک جمہوریت کی جانب اپنے سفر میں حائل مشکلات پر زیادہ اچھے طریقے سے قابو پا سکیں

سچ تو یہ ہے کہ ’عرب بہار‘ کا تصور خطّے کی بہت سی مطلق العنان حکومتوں کی طرف سے طاقت کے بے رحمانہ استعمال کے باعث ناکامی یا ابتری کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ اوباما کی حقیقت پسندانہ تقریر سے جہاں بالواسطہ طور پر تشویش کا اظہار ہوتا ہے، وہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی نہیں جانتے کہ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیے۔ غالباً اُن کے ذہن میں بھی مستقبل کا کوئی واضح تصور نہیں ہے۔

خطّے میں حالات آئندہ کیا رُخ اختیار کریں گے، اس حوالے سے امریکہ کا اثر و رسوخ بھی محدود ہے۔ اوباما نے کم از کم کچھ عملی اقدامات ضرور کیے اور انقلاب کی روشن مثالوں کے طور پر تیونس اور مصر کے لیے اور باتوں کے ساتھ ساتھ جامع مالی امداد کا بھی اعلان کیا تاکہ یہ ملک جمہوریت کی جانب اپنے سفر میں حائل مشکلات پر زیادہ اچھے طریقے سے قابو پا سکیں۔ یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے، جس کی یورپی ملکوں کو بھی تقلید کرنی چاہیے۔‘‘

تبصرہ: رائنر زولِش / ترجمہ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM