1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کو افغانستان میں امریکی فوج میں کمی کا مشورہ

امریکی دفاعی ماہرین نے افغان جنگ کی ایک حوصلہ شکن تصویر پیش کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما کو مشورہ دیا ہے کہ اگر امریکہ کو مزید کامیابی نہیں بھی ملتی تو تب بھی وہ افغانستان سے فوجی مشن واپس بلانے پرغور کریں۔

default

کونسل برائے خارجہ تعلقات کی ٹاسک فورس نے تاہم صدراوباما کے طالبان کے خلاف جاری آپریشن میں شدت لانے اور سال 2011ء سے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔

سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج ڈبلیوبُش کی انتظامیہ کے اہم ارکان رچرڈ آرمٹیج اور سیمیول برجر کی سربراہی میں قائم اس پینل کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ انتظامیہ دسمبر میں متوقع افغان جنگ کے حوالے سے اپنی حکمت عملی میں نظرثانی کے بعد اس بارے میں سخت فیصلے کرے۔

Taliban, Archivbild

افغانستان میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں

ٹاسک فورس نو سالہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ ایک ایسے وقت میں لگا رہی ہے جب حکومت کی طرف سے بچتی پروگرام پرعمل جاری ہے۔ اس وقت ایک لاکھ کے قریب امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جبکہ امریکہ ہرماہ کئی ارب ڈالر اس خطے پر خرچ کررہا ہے۔

تاہم ان ماہرین نے افغانستان اورپاکستان کے لیے امریکی پالیسی کی توثیق کی ہے۔ اس ٹاسک فورس کی طرف سے جاری بیان کےمطابق یہ توثیق اس بات سے باخبر ہونے کے باوجود کی جارہی ہے کہ اس حکمت عملی کی وجہ سے امریکی عوام کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

Amerikanische Soldaten mit Fernrohr in Afghanistan

افغانستان میں تعینات امریکی فوجی

اس ٹاسک فورس کی طرف سے جاری کردہ اسٹڈی میں مزید کہا گیا ہےکہ گو کہ افغانستان میں امریکی فوج کی مذید کامیابی حاصل کرنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں، تاہم اگر امریکہ کو مذید کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں تو وہ زمینی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے افغانستان سے جولائی سال 2011ء سے اپنی فوج کا انخلا شروع کر سکتا ہے۔

ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرمذید کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو پھربھی امریکہ کو اپنی افواج میں کمی لاتے ہوئے ایسے فوجی مشن ترتیب دے جس کا زیادہ زوردہشت گردی کی سر کوبی پر ہو۔

اس اسٹدی کےمطابق اس وقت تقریباﹰ 10 سے 20 ہزار امریکی فوجی اسپیشل آپریشنز فورسز کی سربراہی میں شدت پسندوں سے برسر پیکار ہیں باوجود اس کے کہ القاعدہ کے زیادہ تر کیمپوں کو گیارہ ستمبر دو ہزار گیارہ میں کیے گئے حملے میں ختم کر دیا گیا تھا۔

تاہم ٹاسک فورس نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ کم افواج کے ساتھ پر اثر مشن کی حکمت عملی میں بعض بڑےخدشات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ طالبان کمزرو مرکزی حکومت کی صورت میں بین الاقوامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر اپنی کارروائیوں کا آغاز کر سکتے ہیں جس کے باعث سول جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

رپورٹ : عنبرین فاطمہ

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس