1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کا ہنگامی مالیاتی پیکج

لڑکھڑاتی ہوئی امریکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے نئے امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے مجوزہ امدادی پیکج میں کمی کے بعد 789 بلین ڈالرز کے بل کی آج امریکی سینیٹ سے منظوری کا امکان ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

اس کے لئے نومنتخب امریکی انتظامیہ اور امریکی کانگریس کے درمیان سمجھوتہ ہو چکا ہے۔ اس بل کی منظوری صدر اوباما کی پہلی اہم کامیابی ہوگی۔

حکمران ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹ کےسربراہ ہیری ریڈ Harry Reid نے اس بل سے متعلق توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے : "یہ بل روزگار کے پینتیس لاکھ مواقع پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ جبکہ اس پیکج کا ایک تہائی حصہ متوسط طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے لئے وقف ہے۔‘‘

عالمی اقتصادی بحران اور خاص طور پر امریکی معیشت پر اسکے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں امریکی صدر کی خواہش تھی کہ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں باہمی اتفاق سے اس بل کو منظور کریں مگر اس پیکج کے حجم اور اس سے متوقع نتائج کے پیش نظر ری پبلکن پارٹی کی جانب اس بل پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ اس پیکج میں شامل عام لوگوں کے لئے ٹیکس اصلاحات، انفرا سٹرکچر، بے روزگاری کا شکار ہونے والے افرا دکے لئے امداد اور صحت کے حوالے سے فراہم کی جانے والی سہولتوں پر ابھی بھی ری پبلکن جماعت کے کم ارکان کی جانب سے ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

پیکج کی منظوری کے لئے اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا:’’ اس بات پر بہت زیادہ انحصار ہے کہ ہم اس وقت کیا کرتے ہیں۔ یہ صرف میری حکومت کے مستقبل کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ہمارےخاندانوں اور ہمارے سماج کا مسئلہ ہے۔ ہماری معیشت اور ہمارے ملک کا مسئلہ ہے۔ ہم اسے نہایت ذمہ داری، مؤثر اور شفاف طریقے سے سرانجام دیں گے کیونکہ اس پر بہت سی چیزوں کا انحصار ہے۔‘‘

امریکی سینٹ میں مجوزہ امدادی پیکج پر بحث مباحثے کے بعد 838 بلین ڈالر کے بل کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے 800 بلین ڈالر تجویز کئے گئے۔ دوسری طرف اپوزیشن ری پبلکن پارٹی نے اس امدادی پیکج پر اتفاق کے لئے مجوزہ بل میں دیگر تبدیلیوں کے علاوہ اس بل کی مالیت کو 800 بلین ڈالر سے کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پیکج کی متوقع منظوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کانگریس سے اس بل کی منظوری پر صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کام ختم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے بعد ہماری بھرپور توجہ اس پیکج سے متوقع بڑے مقاصد کے حصول پر مرکوز ہوجائے گی۔"