1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اوباما کا پہلا دورہ لاطینی امریکہ

امریکی صدر باراک اوباما لاطینی امریکہ کا چار روزہ دورے پر ہیں۔ اس دورے میں جمعہ کے روز OAS کے اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔

default

اوباما دورہ لاطینی امریکہ میں سب سے پہلے میکسیکو پہنچے

ٹرینیڈاڈ میں امریکی ریاستوں کی تنظیم OAS کی آج جمعہ کے روز شروع ہونے والی کانفرنس ان ملکوں کا اپنی نوعیت کا پانچواں سربراہی اجلاس ہے۔ اس میں امریکی صدر باراک اوباما لاطینی امریکہ اور بحیرہ کیریبئین کے علاقے کی ریاستوں کے اپنے ہم منصب رہنماؤں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ OAS میں شامل ملکوں کو اپنے معاشی حالات میں بہتری پر سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیئے۔

OAS میں شمالی اور امریکی دونوں براعظموں کی ریاستیں شامل ہیں اور پورٹ آف اسپین اس کانفرنس میں امریکہ کی کیوبا سے متعلق گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری سخت گیر سیاست پر بھی تفصیلی بحث نہیں تو تبادلہ خیال یقینی طور پر کیا جائے گا۔

کانفرنس میں 33 ممالک حصہ لے رہے ہیں جن میں کیوبا شامل نہیں ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کیوبا کو مبینہ طور پر امریکی دباؤ کی وجہ سے اس کانفرنس میں شامل نہیں کیا گیا۔

امریکی صدر اوباما نے، جو ان دنوں لاطینی امریکہ کے چار روزہ دورے پر ہیں، ٹرینیڈاڈ جانے سے قبل میکسیکو کا دورہ کیا جہاں ان کی صدر Calderon کے ساتھ تفصیلی بات چیت بھی عمل میں آئی۔ دونوں رہنماؤں کی گفتگو کا محور ہتھیاروں اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف اقدامات رہے۔ اس دوران باراک اوباما نے کہا:’’میکسیکو میں پکڑے جانے والا اسلحہ 90 فیصد امریکہ سے آتا ہے۔ ان میں سے زیادہ ترہماری سرحد پر قائم اسلحہ کی دکانوں سے ہوتا ہے۔ اس لئے ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے اور ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔‘‘

اپنے دورہ میکسیکو کے دوران ہی کیوبا کے حوالے سے بات کرتے ہوے باراک اوباما نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور ہوانا کے تعلقات نصف صدی قبل فیدیل کاسترو کی قیادت میں وہاں آنے والے انقلاب کے بعد سے کشیدہ ہیں جو راتوں رات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

باراک اوباما نے ابھی چند روز قبل ہی کیوبا اور امریکہ کے مابین عام شہریوں کے سفراور رقوم کی منتقلی پر عائد پابندیاں ختم کردی تھیں مگر کیوبا کے خلاف عمومی امریکی پابندیاں ابھی بھی برقرار ہیں۔ اس بارے میں کئی لاطینی امریکی ریاستوں کا موقف یہ ہے کہ واشنگٹن کی ہوانا پر قریب پانچ عشرے قبل عائد کی جانے والی پابندیاں غیر موثر ثابت ہوئی ہیں اور انہیں ختم کیاجانا چاہیئے۔ امریکہ غالبا اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا کہ انہی پابندیوں کے خلاف گذشتہ برس دسمبر میں برازیل منعقدہ علاقائی سربراہی کانفرنس میں بھی ایک باقاعدہ قرارداد منظور کی گئی تھی۔

جہاں تک کیریبئین کی ریاست ٹرینیڈاڈ کے شہر پورٹ آف اسپین میں اتوار کے روز تک جاری رہنے والی امریکی براعظموں کی سربراہی کانفرنس کے مرکزی موضوعات کا سوال ہے تو ان میں معیشی بحالی، توانائی کے وسائل اور سلامتی کی صورت حال سب سے اہم ہیں۔

اسی لئے اس بارے میں واشنگٹن کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے جمعہ کے روز کہا کہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاستی انتظام میں کام کرنے والی کسی غیر لچکدار معیشت یا بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں کوئی بھی بحث بے سود ہو گی۔ اصل بات یہ ہے کہ کانفرنس میں دانشمندی سے ذمہ دارانہ فیصلے کئے جائیں۔