1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اوباما کا منصوبہ سیاسی شعبدہ بازی ہے‘

امریکہ کے ڈیمو کریٹک صدر باراک اوباما کے مخالف ری پبلکن سیاست دانوں نے بجٹ خسارے سے متعلق اُن کے منصوبے کو سیاسی شعبدہ بازی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

default

ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے قانون بن جانے کا امکان موجود نہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے ملکی بجٹ خسارے میں کمی کے لیے اگلے دس سالوں میں 3 اعشاریہ چھ ٹرلین ڈالر کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کے تحت حکومتی اخراجات میں کمی اور امراء پر محصولات میں اضافہ کیا جا سکے گا۔ ڈیمو کریٹک امریکی صدر باراک اوباما بجٹ خسارے میں کمی کے لیے محض حکومتی اخراجات میں کمی پر اکتفا کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ ری پبلکنز محصولات میں اضافے کے مخالف ہیں۔ یہ تنازعہ 2012ء کے انتخابات تک طول اختیار کر سکتا ہے۔

اوباما کے منصوبے کے تحت صحت کے شعبے میں اخراجات میں بھی کمی کی جائے گی، جس کے تحت ادویات بنانے والی بڑی کمپنیاں، انشورنس کمپنیاں اور بڑے ہسپتال متاثر ہوں گے۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس منصوبے اور ریاستی قرضوں کی حد سے متعلق اگست میں طے پانے والے معاہدے کی مدد سے مجموعی طور پر 4 ٹرلین ڈالر بچائے جا سکیں گے۔ تجویز کے تحت امریکی ٹیکس کوڈ میں تبدیلی کرنے سے قریب ایک اعشاریہ چھ ٹرلین ڈالر اور سالانہ دو لاکھ ڈالر کمانے والے امریکیوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے  866 ارب ڈالر  کی بچت کی جا سکے گی۔ تیل اور گیس کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں اور ایسی کمپنیوں کو حاصل ٹیکس بریکس کا خاتمہ بھی تجویز کیا گیا ہے جو ذاتی جیٹ طیارے خریدتی ہیں۔ منصوبے کے تحت عراق جنگ کے خاتمے اور افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں کمی سے ایک اعشاریہ ایک ٹرلین ڈالر کی بچت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

USA Etat Entscheidung

ایوان نمائندگان کے اسپیکر ری پبلکن رہنما جان بوہنر کا کہنا ہے کہ امراء پر ٹیکس عائد کر کے طبقاتی جنگ چھیڑنا کسی طرح بھی قائدانہ طرز عمل نہیں

اپنے حالیہ خطاب میں امریکی صدر نے کئی بار یہ فقرہ دہرایا، ’’ تمام امریکی شہریوں کو اپنے ٹیکس کا جائز حصہ ادا کرنا ہو گا‘‘۔ ری پبلکنز کا مؤقف ہے کہ چونکہ معیشت پہلے ہی جمود کا شکار ہے ایسے میں محصولات میں اضافے سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہونا بند ہو جائیں گے۔ سینیٹ میں ری پبلکن رہنما مچ مک کونیل نے اوباما کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے منصوبے سے معیشت بہتر نہیں ہو گی۔

امریکی صدر کے اس منصوبے پر اب چھ ڈیموکریٹس اور چھ ری پبلکنز کی نمائندگی والی ’سپریم کمیٹی‘ میں غور ہو گا۔ یاد رہے کہ رواں سال امریکی بجٹ میں خسارے کا اندازہ قریب ایک اعشاریہ تین ٹرلین ڈالر کے برابر لگایا جا رہا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM