1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما کا عرب اور مسلم دنیا کی جانب زیادہ جامع لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ

گوانتانامو حراستی کیمپ کی بندش، جبر و تشدد پر پابندی اور خارجہ پالیسی میں مشرقِ وُسطےٰ کو مرکزی اہمیت دینے کے اعلانات، امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کر دی ہے۔

default

نئے امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی پالیسییوں میں تبدیلی کا واضح نشاندہی کر دی

پیر 26 جنوری کو امریکی صدر باراک اوباما نے عرب ٹیلی وژن العربیہ کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ اُن کی انتظامیہ مسلم دُنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک زیادہ جامع لائحہ عمل اختیار کرے گی۔ اوباما نے دوبئی میں قائم ٹی وی چینل کو بتایا، امریکی انتظامیہ کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ مسلم دُنیا کے ساتھ روابط کو صرف اور صرف فلسطینی اسرائیلی تناظر میں دیکھے اور اِس بات سے صرفِ نظر کرے کہ شام یا ایران، یا لبنان، افغانستان یا پھر پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔

اوباما نے کہا کہ اپنے خصوصی ایلچی جارج مچل کو مشرقِ وُسطےٰ بھیج کر اُنہوں نے اُس وعدے کو پورا کرنے کا آغاز کر دیا ہے، جو اُنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ اپنے انٹرویو میں اوباما نے کہا: ’’جورج مچل ایک قد آور شخصیت ہیں۔ وہ اُن معدودے چند لوگوں میں سے ایک ہیں، جو امن سمجھوتے طے کروانے کا بین الاقوامی تجربہ رکھتے ہیں۔ مَیں نے اُن سے کہا ہے کہ وہ پہلے وہاں جا کر لوگوں کا مَوقِف سنیں کیونکہ ماضی میں اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ امریکہ اِن معاملات میں پہلے اپنا مَوقِف منواتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم تنازعے کے تمام پہلوؤں سے واقف نہیں ہوتے۔ وہ جا کر تمام فریقین سے بات کریں گے اور پھر مجھے رپورٹ دیں گے۔ اور تب ہم کوئی مخصوص ردعمل وضع کریں گے۔

اِسی دوران صدر اوباما کے یہ خصوصی مندوب برائے مشرقِ وُسطےٰ جورج مچل اِس خطے کے دورے کے پہلے مرحلے پر آج مصری دارالحکومت قاہرہ پہنچ گئے۔ ہوائی اڈے پر ہی مچل کی ملاقات یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف خاویئر سولانا سے بھی ہوئی، جو خود بھی خطّے میں امن کوششوں اور غزہ میں پائیدار فائر بندی کے سلسلے میں مصر میں ہیں۔ بعد ازاں مچل مصری قیادت کے ساتھ مذاکرات میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کن اقدامات کے ذریعے مشرقِ وُسطےٰ میں امن عمل کی جانب حقیقی پیشرفت ممکن ہو سکتی ہے۔

اِس حقیقی پیشرفت کی وضاحت کرتے ہوئے اوباما نے اپنے انٹرویو میں کہا: ’’میرے خیال میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو یہ محسوس کر لینا چاہیے کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں، وہ اُن کے ہم وطنوں کے لئے خوشحالی اور سلامتی کا باعث نہیں بنے گا۔ اِس کی بجائے اُنہیں مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہو گا۔ یہ مشکل بات بھی ہے اور اِس کے لئے وقت بھی درکار ہو گا۔ تاہم مجھے پورا یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم یورپی یونین، روس اور خطے کے تمام عرب ممالک کے ساتھ مل کر اِس تنازعے کے حل کی جانب اہم پیشرفت کر سکتے ہیں۔‘‘

مشرقِ وُسطےٰ سے متعلق اوباما کے اعلانات پر عرب دُنیا میں ملا جلا رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کیسے اوباما ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیشرفت عمل میں لا سکیں گے اور کیسے عراق سے اپنے فوجی دَستے واپس بلا سکیں گے، بہت سے عرب تجزیہ نگاروں کے خیال میں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔